لکھنؤ/فیض آباد، نمائندہ خصوصی
مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم، جدید تعلیمی مواقع، کیریئر گائیڈنس اور قومی دھارے کے تعلیمی اداروں سے مربوط کرنے کے مقصد سے مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا (ایم ایس او آف انڈیا) کی جانب سے جاری دو روزہ "دورۂ مدارس” مہم کے تحت تنظیم کے قومی صدر مولانا عارف القادری واحدی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے 7 جون 2026 کو الجامعۃ الاسلامیہ روناہی، ضلع فیض آباد کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر جامعہ کے اساتذہ، ذمہ داران اور طلبہ کے ساتھ اہم تعلیمی و فکری موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفد میں قومی نائب صدر مولانا ابو اشرف ذیشان، ایم ایس او اتر پردیش کے صدر ڈاکٹر محمد ارشد خان رضوی اور قومی میڈیا انچارج مفتی قمر انجم قادری فیضی شامل تھے۔ وفد کے جامعہ پہنچنے پر نائب پرنسپل الجامعۃ الاسلامیہ روناہی علامہ محمد سلمان جامعی ازہری، مفتی عقیل مصباحی امجدی، مفتی نصیر الدین جامعی مصباحی، مفتی شریف مصباحی ازہری اور مولانا فرمان رضا اویسی (صدر ایم ایس او ضلع شراوستی) نے پرتپاک استقبال کیا اور جامعہ کے مختلف شعبہ جات کا تعارف پیش کیا۔
اس موقع پر منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عارف القادری واحدی نے کہا کہ موجودہ دور میں مدارس اور یونیورسٹیوں کے درمیان مضبوط تعلیمی پل قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مدارسِ اسلامیہ نے ہمیشہ دین، اخلاق اور تہذیب کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، تاہم آج کے تقاضوں کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ مدارس کے فضلاء جدید تعلیمی امکانات، تحقیقی میدانوں اور پیشہ ورانہ شعبوں سے بھی واقف ہوں تاکہ وہ دینی خدمات کے ساتھ ساتھ سماج کے مختلف میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم ایس او آف انڈیا کا مقصد مدارس کے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم، تحقیقی اداروں، پیشہ ورانہ کورسز اور قومی سطح کے تعلیمی مواقع سے جوڑنا ہے۔ تنظیم اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مدارس کے طلبہ غیر معمولی ذہانت، علمی استعداد اور فکری صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں، لہٰذا اگر انہیں مناسب رہنمائی اور درست سمت فراہم کی جائے تو وہ ملک و ملت کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
قومی نائب صدر مولانا ابو اشرف ذیشان نے طلبہ سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹیوں میں داخلے کے نظام، مختلف سرکاری و غیر سرکاری اسکالرشپس، یو جی سی اور دیگر تعلیمی اداروں کی سہولیات، مقابلہ جاتی امتحانات، سول سروسز، نیٹ، جے آر ایف، ریسرچ پروگرامز اور مختلف پروفیشنل کورسز کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم، زبانوں اور ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دیں تاکہ وسیع تر تعلیمی اور سماجی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔
نشست کے دوران نائب پرنسپل علامہ محمد سلمان جامعی ازہری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی اور فکری ارتقاء کے لیے ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً مختلف النوع موضوعات پر علمی و فکری لیکچرز کا انعقاد ہوتا رہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ایم ایس او آف انڈیا کے تعاون سے جامعہ میں مستقل بنیادوں پر رہنمائی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ طلبہ فضیلت کے بعد اپنے مستقبل کے حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کرسکیں اور مختلف شعبہ ہائے حیات میں کامیابی حاصل کریں۔
اس موقع پر مولانا عارف القادری واحدی نے یقین دہانی کرائی کہ ایم ایس او آف انڈیا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کی تعلیمی و تدریسی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے وہ طلبہ جو فضیلت کے بعد مختلف یونیورسٹیوں میں داخلہ لینا چاہتے ہیں، ان کی رہنمائی، کونسلنگ، داخلہ جاتی معلومات اور دیگر ضروری تعاون میں تنظیم بھرپور کردار ادا کرے گی۔
نشست کے اختتام پر جامعہ کے اساتذہ اور ذمہ داران نے ایم ایس او آف انڈیا کی اس تعلیمی مہم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے دوروں سے مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور روشن مستقبل کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
بعد ازاں علامہ سلمان رضا ازہری کی جانب سے وفد کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ بعدہ وفد نے حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کے آستانۂ عالیہ پر حاضری کے لیے کچھوچھہ شریف کا رخ کیا، جہاں حاضری و دعا کے بعد دورۂ مدارس کی آئندہ سرگرمیوں کے سلسلے میں تبادلۂ خیال بھی کیا گیا۔


