سنت کبیر نگر

مہندوپار میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، رسمِ دستارِ افتاء و تحقیق اور تقریبِ شادی خانہ آبادی روحانی و علمی شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر

  • علماء و مشائخ کی پرنور شرکت، نعتیہ گل ہائے عقیدت، دستارِ افتاء، کتاب کی رونمائی اور فکرانگیز خطابات نے محفل کو یادگار بنا دیا

مہندوپار، سنت کبیر نگر (پریس ریلیز):

قریۃ العلماء مہندوپار (اترمحلہ)، ضلع سنت کبیر نگر میں مصباح الفقہاء، صاحبِ فتاویٰ اسحاقیہ حضرت علامہ مفتی محمد عالمگیر صاحب رضوی مصباحی امجدی، استاذ و مفتی دارالعلوم اسحاقیہ جودھپور کے دولت کدہ پر منعقد ہونے والی عظیم الشان روحانی، علمی اور مسرت آمیز تقریب بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوگئی۔ اس بابرکت پروگرام میں ایک جانب عشقِ رسول ﷺ سے سرشار جشنِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منایا گیا، دوسری جانب شہزادگان مصباح الفقہاء حضرت مولانا مفتی محمد احسن رضا ضیائی اشفاقی امجدی کی رسمِ دستارِ افتاء و تحقیق اور حافظ و قاری مولانا محمد عسجد رضا ضیائی کی جشنِ شادی خانہ آبادی منعقد ہوئی، جس میں علماء، مشائخ، حفاظ، قراء، دانشوران اور عاشقانِ رسول ﷺ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز احسن القراء حضرت قاری محمد مصطفیٰ رضا صاحب عزیزی کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کا شرف متعدد خوش الحان نعت خواں حضرات کو حاصل ہوا۔ مداحِ رسول جناب حسان رضا صاحب ضیائی، واصفِ شاہِ ہدی حضرت حافظ عبید اللہ صاحب، شہنشاہِ ترنم حضرت مولانا تحسین رضا صاحب اشفاقی علیمی، مداحِ رسول جناب قمر رضا صاحب اسماعیلی، نعت خواںِ رسول حضرت مولانا اسرار احمد جوہر امجدی خلیل آبادی اور بلبلِ باغِ مدینہ حضرت مولانا محمد عرفان رضا نظامی نے اپنے ایمان افروز کلام سے سامعین کے قلوب کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبوؤں سے معطر کردیا۔
افتتاحی خطاب حافظ و قاری محمد امجد رضا ضیائی نے پیش کیا، جس میں انہوں نے جشنِ میلاد النبی ﷺ کی برکات اور دینی پروگراموں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد دارالعلوم اسحاقیہ جودھپور سے تشریف لائے حضرت مولانا محمد رمضان صاحب اشفاقی اور حضرت مولانا مہرالدین صاحب قادری اشفاقی نے اپنے مشفق و مہربان استاذ مصباح الفقہاء حضرت علامہ مفتی محمد عالمگیر صاحب رضوی مصباحی امجدی کی دینی، علمی، فقہی اور تدریسی خدمات کو اپنے مشاہدات کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے لوگوں کو علماء کرام کی قدر و منزلت پہچاننے کی تلقین فرمائی۔
بعد ازاں معروف خطیب حضرت مولانا مقصود احمد صاحب علیمی لوہرسن نے نہایت مؤثر اور فکر انگیز خطاب فرمایا۔ آپ نے عشقِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت، دینی تعلیم اور علماءِ حق کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے نوجوان نسل کو علم و عمل سے وابستہ رہنے کی تلقین فرمائی۔
اس روحانی، علمی اور بابرکت پروگرام کی نظامت طلیق اللسان، ماہرِ فنِ نظامت حضرت مولانا محمد ہارون صاحب علیمی نے اپنے منفرد انداز، شستہ لب و لہجے اور عمدہ ربط و ترتیب کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دی۔ آپ کی دلنشیں نظامت نے پوری محفل کو ابتدا سے انتہا تک منظم، پرکشش اور پُروقار بنائے رکھا، جسے حاضرینِ مجلس نے خوب سراہا۔
تقریب کا ایک نہایت اہم اور تاریخی مرحلہ اس وقت آیا جب جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی شریف سے دستارِ افتاء و تحقیق کی سعادت حاصل کرنے والے شہزادۂ مصباح الفقہاء حضرت مولانا مفتی محمد احسن رضا ضیائی اشفاقی امجدی کی رسمِ دستارِ افتاء ادا کی گئی۔ اس موقع پر حاضرین نے خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے نو منتخب مفتیِ اہلِ سنت کو مبارکباد پیش کی۔
اس بابرکت موقع پر مولانا مفتی محمد احسن رضا ضیائی اشفاقی امجدی کی علمی کاوشوں کا مظہر، دورانِ تربیتِ افتاء اساتذۂ کرام کی نگرانی میں تحریر کردہ فتاویٰ پر مشتمل کتاب”الافاضات الامجدیہ فی الفتاوی الاحسنیہ” المعروف بھا”فتاویٰ تربیت افتاء جامعہ امجدیہ” کی بھی رونمائی عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ اس علمی سرمایہ کی اشاعت دستارِ افتاء سے قبل ہی ہوچکی تھی اور اس کا رسمِ اجرا عرسِ امجدی کے موقع پر حضور محدثِ کبیر حضرت علامہ مفتی ضیاء المصطفیٰ صاحب قادری مدظلہ العالی اور دیگر اکابر علماء و مشائخ کے ہاتھوں انجام پا چکا تھا۔ مہندوپار کی اس عظیم الشان تقریب میں اس کتاب کی دوبارہ رونمائی کی گئی اور اس کی کاپیاں اسٹیج پر موجود علماء کرام کی خدمات میں پیش کی گئیں، جسے علمی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔
بعد ازاں مولانا مفتی محمد احسن رضا ضیائی اشفاقی امجدی نے اپنے اساتذۂ کرام، والدین، اکابرین، اعزاء و اقرباء نیز حاضرینِ مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہدیۂ تشکر و امتنان پیش کیا اور اپنی کامیابی کو بزرگوں کی دعاؤں اور اساتذہ و والدین کی تربیت کا ثمر قرار دیا۔
تقریب کا خصوصی اور مرکزی خطاب مناظرِ اہلِ سنت، شیخ الحدیث جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی شریف، شمس الفقہاء حضرت علامہ الحاج مفتی شمشاد احمد صاحب مصباحی نے فرمایا۔ آپ نے اپنے جامع، مدلل اور روح پرور خطاب میں ایک طرف حضرت علامہ مفتی محمد عالمگیر صاحب رضوی مصباحی امجدی کو ان کے بڑے صاحبزادے کی شادی خانہ آبادی کی مبارکباد پیش کی تو دوسری جانب مولانا مفتی محمد احسن رضا ضیائی اشفاقی امجدی کو دستارِ افتاء و تحقیق کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں فرمائیں اور کچھ مفید نصیحتوں سے بھی نوازا۔
اپنے خطاب میں حضرت مفتی شمشاد احمد صاحب مصباحی نے خصوصی طور پر اس حقیقت کو اجاگر فرمایا کہ علم کے ساتھ ادب اور اساتذہ سے مضبوط تعلق کا ہونا ناگزیر ہے۔ آپ نے اس موضوع کو اکابرینِ اہلِ سنت کے روشن واقعات سے مزین کرتے ہوئے حضور حافظِ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کے زمانۂ طالب علمی کے وہ ایمان افروز واقعات بیان فرمائے جن میں انہوں نے اپنے استاذِ گرامی حضور صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی مصنفِ بہارِ شریعت علیہ الرحمہ کا بے مثال ادب و احترام کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اسی ادب و اخلاص کی برکت تھی کہ حافظِ ملت علیہ الرحمہ کو عالمگیر شہرت اور بے مثال مقبولیت نصیب ہوئی۔ آپ کا پورا خطاب علمی گہرائی، فکری پختگی اور روحانی تاثیر کا حسین امتزاج تھا جسے حاضرین نے انتہائی انہماک سے سماعت کیا۔
اس عظیم الشان پروگرام میں خصوصیت کے ساتھ حضرت مولانا الحاج نظام الدین صاحب نظامی، حضرت مولانا محمد غوث صاحب مصباحی، حضرت مولانا محمد احمد صاحب مصباحی، حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی، حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب نوری امجدی، حضرت مولانا عبدالسلام صاحب فہیم بستوی، حضرت مولانا نیاز احمد صاحب، حضرت مولانا محمد عارف صاحب امجدی، حضرت مولانا جرار صاحب، حضرت مولانا اشتیاق صاحب، حضرت مولانا احسان اللہ صاحب علیمی، حضرت مولانا عبدالرؤف صاحب اشفاقی مصباحی، حضرت مولانا عبدالکلام صاحب اشفاقی،حضرت مولانا عبدالنبی صاحب اشفاقی، حضرت مولانا حافظ عنبر صاحب اشفاقی سمیت متعدد علماء، حفاظ، قراء اور معزز شخصیات نے شرکت فرمائی۔
آخر میں صلوٰۃ و سلام کے بعد حضرت علامہ مفتی شمشاد احمد صاحب مصباحی کی رقت آمیز دعا پر یہ روحانی و علمی محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔ حاضرین نے اس مبارک پروگرام کو علم، محبتِ رسول ﷺ، روحانیت اور دینی شعور کا حسین سنگم قرار دیتے ہوئے منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور ایسے پروگراموں کے تسلسل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
مذکورہ رپورٹ دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان) کے ناظمِ تعلیمات، ادیبِ شہیر حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز پر مبنی ہے۔

اپنے وہاٹس ایپ پر تازہ ترین خبریں پانے کے لیے یہاں کلک کریںْ!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے