اعظم گڑھ

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

  • مبارک پور سے صحافت کا ایک چمکتا ہوا ستارہ غروب ہو گیا
  • جامعہ اشرفیہ کے استاذ، ماہنامہ اشرفیہ کے ایڈیٹر، تاج الشریعہ کے خلیفہ علامہ مبارک حسین مصباحی کا انتقال

مبارک پور، اعظم گڑھ 5 جون 2026ء: علمی و صحافتی دنیا کے لیے ایک اندوہناک خبر۔ فخر صحافت، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خان ازہری میاں کے خلیفہ مجاز، عزیز ملت حضرت علامہ عبدالحفیظ صاحب کے داماد، جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ممتاز استاذ اور ماہنامہ اشرفیہ کے مدیر اعلیٰ حضرت علامہ و مولانا مبارک حسین صاحب قبلہ مصباحی جمعہ کی شب تقریباً 12 بجے اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

انتقال کی خبر سنتے ہی مبارک پور سمیت پورے ملک کے علمی و مذہبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ جامعہ اشرفیہ کے احاطے، شہر کی مساجد اور خانقاہوں میں سوگ کا سماں ہے۔ طلبہ، اساتذہ، علما اور عوام کی بڑی تعداد ان کے آخری دیدار کے لیے ان کی رہائش گاہ پر جمع ہو رہی ہے۔

اہل خانہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق علامہ مبارک حسین مصباحی گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اچانک طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ ڈاکٹروں کو بلایا گیا مگر جانبر نہ ہو سکے اور رات 12 بجے کے قریب خالق حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم کی عمر تقریباً 58 سال بتائی جاتی ہے۔ پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹے، دو بیٹیاں اور ہزاروں شاگرد اور مریدین شامل ہیں۔

علمی و صحافتی خدمات

تدریسی زندگی:

علامہ مبارک حسین مصباحی نے اپنی زندگی کے 30 سے زائد سال جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں تدریس کے لیے وقف کیے۔ آپ فقہ، حدیث، عربی ادب اور صحافت کے مضامین پڑھاتے تھے۔ آپ کی تدریس کا انداز سادہ، مدلل اور طلبہ کے ذہن نشین ہونے والا تھا۔ جامعہ اشرفیہ کے سینکڑوں فارغین آپ کو اپنا محسن مانتے ہیں۔ ملک و بیرون ملک میں پھیلے آپ کے شاگرد آج مختلف مساجد، مدارس، جامعات اور صحافتی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

صحافتی خدمات:

آپ کی اصل پہچان "ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور” کی ادارت تھی۔ 15 سال سے زائد عرصے تک آپ نے اس تاریخی رسالے کی ذمہ داری سنبھالی۔ آپ کے دور ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ نے نہ صرف علمی و تحقیقی مضامین شائع کیے بلکہ ملی مسائل، اصلاح معاشرہ اور اہل سنت کی ترجمانی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کے اداریے "نقش قلم” علمی حلقوں میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے۔ آپ نے اردو صحافت کو باوقار، مدلل اور شائستہ زبان دی۔ خبر کی تحقیق، زبان کی پاکیزگی اور مسلکی اعتدال آپ کی صحافت کے تین بنیادی اصول تھے۔ نوجوان صحافیوں کی تربیت کے لیے آپ نے جامعہ اشرفیہ میں "شعبہ صحافت” کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

بیعت و خلافت:

علامہ مصباحی کو حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری رحمۃ اللہ علیہ سے شرف بیعت و خلافت حاصل تھا۔ "خلیفۂ حضور تاج الشریعہ” کی حیثیت سے آپ نے سنی بریلوی مکتب فکر کی علمی و روحانی روایت کو آگے بڑھایا۔ آپ حضور عزیز ملت علامہ عبدالحفیظ صاحب مصباحی کے داماد بھی تھے، اس طرح آپ کو علمی و روحانی دونوں گھرانوں کی نسبت حاصل تھی۔

تصنیفی کام:

اگرچہ آپ کی مصروفیات تدریس اور ادارت میں زیادہ رہیں، تاہم آپ نے کئی اہم کتابوں پر مقدمے لکھے، مضامین کے مجموعے ترتیب دیے اور درجنوں علمی و اصلاحی مقالات سپرد قلم کیے۔ "صحافت اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان سے آپ کے خطابات کا مجموعہ نوجوان صحافیوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

شخصیت کے چند پہلو

علامہ مبارک حسین مصباحی بیک وقت عالم، مدرس، صحافی، خطیب اور منتظم تھے۔ آپ کی شخصیت میں عاجزی، انکساری اور خندہ پیشانی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ طلبہ کے لیے شفیق استاذ، ساتھی اساتذہ کے لیے مخلص رفیق اور عوام کے لیے درد مند رہنما تھے۔ مسلکی مباحث میں بھی آپ کا انداز جارحانہ نہیں بلکہ علمی اور دفاعی ہوتا تھا۔ آپ کا ماننا تھا کہ "قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے، مگر اسے زخم دینے کے لیے نہیں، مرہم رکھنے کے لیے اٹھانا چاہیے۔”

جامعہ اشرفیہ کے پرنسپل نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا: "مولانا مبارک حسین صاحب کی رحلت جامعہ اشرفیہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وہ ادارے کا ایک ستون تھے۔ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پر کرنا مشکل ہوگا۔”

نماز جنازہ اور تدفین

مرحوم کے صاحبزادے نے بتایا کہ نماز جنازہ آج بعد نماز جمعہ 2:30 بجے دن جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے وسیع میدان میں ادا کی جائے گی۔ نماز جنازہ کی امامت حضور عزیز ملت کے صاحبزادے فرمائیں گے۔ تدفین مبارک پور کے احاطۂ اشرفیہ قبرستان میں کی جائے گی۔ ملک بھر سے علما، مشائخ، سیاسی و سماجی شخصیات کی آمد متوقع ہے۔ انتظامیہ نے سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔

تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری

حضور قائد ملت، صدر الشریعہ کے جانشین، بریلی شریف، کچھوچھہ شریف، مارہرہ مطہرہ اور ملک کے تمام بڑے خانقاہی مراکز سے تعزیت کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ جامعہ نعیمیہ مرادآباد، الجامعۃ الاشرفیہ، دارالعلوم منظر اسلام بریلی اور دیگر اداروں کے ذمہ داران نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ہزاروں طلبہ و عقیدت مند ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

ایک عہد کا خاتمہ

علامہ مبارک حسین مصباحی کی رحلت صرف ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ علمی و صحافتی اعتبار سے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے جس اخلاص، للہیت اور استقامت کے ساتھ مسلک اہل سنت کی خدمت کی، وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ جامعہ اشرفیہ کا صحن، ماہنامہ اشرفیہ کا دفتر اور درسگاہ کا کمرہ آج اپنے ایک خاموش مگر باوقار مکین سے محروم ہوگیا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان و متعلقین کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ آمین یا رب العالمین۔

اپنے وہاٹس ایپ پر تازہ ترین خبریں پانے کے لیے یہاں کلک کریںْ!

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال” پر 6 تبصرے

  1. تعزیتی پیغام

    حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب رحلت فرماگئے۔
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
    نہایت افسوس ناک خبر موصول ہوئی کہ جلیل القدر عالمِ دین، ممتاز مصنف و مدیر، دامادِ حضور سربراہِ اعلیٰ ، حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب، ایڈیٹر ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور، کا آج پونے بارہ بجے رات انتقال ہوگیا۔ یہ المناک خبر مجھے عزیزِ گرامی مولانا محمد آزاد رضا جامع التقوی دھنبادسے موصول ہوئی، جسے سن کر دل انتہائی غمگین ہوگیا۔
    مرحوم اپنی علمی، دینی، فکری اور صحافتی خدمات کے باعث اہلِ علم و اہلِ سنت کے حلقوں میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، مسلکِ اہلِ سنت کے فروغ، علمی تحقیق، تصنیف و تالیف اور دینی صحافت کی آبیاری میں صرف فرمائی۔ ان کی وفات نہ صرف جامعہ اشرفیہ مبارک پور بلکہ پورے علمی و دینی طبقے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی علمی یادگاریں، دینی خدمات اور حسنِ اخلاق ہمیشہ اہلِ علم کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
    میں اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ عزیزِ ملت حضرت علامہ عبدالحفیظ صاحب دامت برکاتہم العالیہ، سرپرستِ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، حضرت نعیمِ ملت زید مجدہٗ، مرحوم کے تمام اہلِ خانہ، بالخصوص ان کی اہلیہ، صاحبزادگان، صاحبزادیوں، متعلقین، تلامذہ، محبین اور ادارۂ اشرفیہ مبارک پور کے جملہ ذمہ داران کی خدمت میں دلی تعزیت، ہمدردی اور اظہارِ غم پیش کرتا ہوں۔
    اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کی تمام دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ نیز تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل، حوصلۂ کامل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
    اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَأَسْكِنْهُ فَسِيحَ جِنَانِكَ.
    غم کی اس گھڑی میں ہم سب مرحوم کے اہلِ خانہ اور وابستگان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں ان کے لیے مغفرت و بلندیٔ درجات کےلئے دعا گو ہیں۔

    شریکِ غم :
    فقیر محمد یونس رضا اویسی غفرلہ
    قاضیِ شریعت، کانپور
    ۱۸ذی الحجہ ۱۴۴۷ھ

  2. إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

    یہ خبر اہلِ علم و دانش کے لیے کسی سانحہ سے کم نہیں۔ حضرت کی علمی خدمات، دینی بصیرت، اور طلبہ پر شفقت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آپ کی جدائی نے دلوں کو سوگوار اور آنکھوں کو اشکبار کر دیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ پسماندگان، تلامذہ اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

    تمام احباب سے گزارش ہے کہ مرحوم کے لیے ایصالِ ثواب، دعائے مغفرت اور فاتحہ کا اہتمام فرمائیں۔

    عرض گزار: مرید حضور مرشد ملت
    محمد مشرف علی حنفی القادری مجددی تیغی خالقی مظفرپور بہار انڈیا

  3. اناللہ وانا الیہ راجعون ۔
    اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب کے صدقے میں حضرت کی بے حساب مغفرت فرمائے ،جمعۃ المبارک کی مکمل برکتیں عطا فرمائے اور ہل خانہ و لواحقین کو صبر جمیل وأجرعظیم عطا فرمائے ۔
    آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم ۔

  4. اناللہ و انا الیہ راجعون
    اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے اور درجات کو بلند فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

  5. إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

    نہایت افسوس ناک خبر ہے کہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے معزز استاذ، ممتاز عالمِ دین اور ماہنامہ اشرفیہ کے ایڈیٹر حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب آج رات تقریباً 11:45 بجے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔

    اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے علمی، دینی اور قلمی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، اور پسماندگان، متعلقین، شاگردوں اور جامعہ اشرفیہ کے ذمہ داران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

    إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ

    اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے فیوض و برکات کو جاری و ساری رکھے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

  6. انا للہ وانا الیہ راجعون
    مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم 🌹🌹🤲

    شریک غم
    مرتضیٰ شارق صدیقی برکاتی
    الہ آباد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے