- مبارک پور سے صحافت کا ایک چمکتا ہوا ستارہ غروب ہو گیا
- جامعہ اشرفیہ کے استاذ، ماہنامہ اشرفیہ کے ایڈیٹر، تاج الشریعہ کے خلیفہ علامہ مبارک حسین مصباحی کا انتقال
مبارک پور، اعظم گڑھ 5 جون 2026ء: علمی و صحافتی دنیا کے لیے ایک اندوہناک خبر۔ فخر صحافت، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خان ازہری میاں کے خلیفہ مجاز، عزیز ملت حضرت علامہ عبدالحفیظ صاحب کے داماد، جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ممتاز استاذ اور ماہنامہ اشرفیہ کے مدیر اعلیٰ حضرت علامہ و مولانا مبارک حسین صاحب قبلہ مصباحی جمعہ کی شب تقریباً 12 بجے اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
انتقال کی خبر سنتے ہی مبارک پور سمیت پورے ملک کے علمی و مذہبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ جامعہ اشرفیہ کے احاطے، شہر کی مساجد اور خانقاہوں میں سوگ کا سماں ہے۔ طلبہ، اساتذہ، علما اور عوام کی بڑی تعداد ان کے آخری دیدار کے لیے ان کی رہائش گاہ پر جمع ہو رہی ہے۔
اہل خانہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق علامہ مبارک حسین مصباحی گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اچانک طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ ڈاکٹروں کو بلایا گیا مگر جانبر نہ ہو سکے اور رات 12 بجے کے قریب خالق حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم کی عمر تقریباً 58 سال بتائی جاتی ہے۔ پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹے، دو بیٹیاں اور ہزاروں شاگرد اور مریدین شامل ہیں۔
علمی و صحافتی خدمات
تدریسی زندگی:
علامہ مبارک حسین مصباحی نے اپنی زندگی کے 30 سے زائد سال جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں تدریس کے لیے وقف کیے۔ آپ فقہ، حدیث، عربی ادب اور صحافت کے مضامین پڑھاتے تھے۔ آپ کی تدریس کا انداز سادہ، مدلل اور طلبہ کے ذہن نشین ہونے والا تھا۔ جامعہ اشرفیہ کے سینکڑوں فارغین آپ کو اپنا محسن مانتے ہیں۔ ملک و بیرون ملک میں پھیلے آپ کے شاگرد آج مختلف مساجد، مدارس، جامعات اور صحافتی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
صحافتی خدمات:
آپ کی اصل پہچان "ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور” کی ادارت تھی۔ 15 سال سے زائد عرصے تک آپ نے اس تاریخی رسالے کی ذمہ داری سنبھالی۔ آپ کے دور ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ نے نہ صرف علمی و تحقیقی مضامین شائع کیے بلکہ ملی مسائل، اصلاح معاشرہ اور اہل سنت کی ترجمانی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کے اداریے "نقش قلم” علمی حلقوں میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے۔ آپ نے اردو صحافت کو باوقار، مدلل اور شائستہ زبان دی۔ خبر کی تحقیق، زبان کی پاکیزگی اور مسلکی اعتدال آپ کی صحافت کے تین بنیادی اصول تھے۔ نوجوان صحافیوں کی تربیت کے لیے آپ نے جامعہ اشرفیہ میں "شعبہ صحافت” کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
بیعت و خلافت:
علامہ مصباحی کو حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری رحمۃ اللہ علیہ سے شرف بیعت و خلافت حاصل تھا۔ "خلیفۂ حضور تاج الشریعہ” کی حیثیت سے آپ نے سنی بریلوی مکتب فکر کی علمی و روحانی روایت کو آگے بڑھایا۔ آپ حضور عزیز ملت علامہ عبدالحفیظ صاحب مصباحی کے داماد بھی تھے، اس طرح آپ کو علمی و روحانی دونوں گھرانوں کی نسبت حاصل تھی۔
تصنیفی کام:
اگرچہ آپ کی مصروفیات تدریس اور ادارت میں زیادہ رہیں، تاہم آپ نے کئی اہم کتابوں پر مقدمے لکھے، مضامین کے مجموعے ترتیب دیے اور درجنوں علمی و اصلاحی مقالات سپرد قلم کیے۔ "صحافت اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان سے آپ کے خطابات کا مجموعہ نوجوان صحافیوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
شخصیت کے چند پہلو
علامہ مبارک حسین مصباحی بیک وقت عالم، مدرس، صحافی، خطیب اور منتظم تھے۔ آپ کی شخصیت میں عاجزی، انکساری اور خندہ پیشانی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ طلبہ کے لیے شفیق استاذ، ساتھی اساتذہ کے لیے مخلص رفیق اور عوام کے لیے درد مند رہنما تھے۔ مسلکی مباحث میں بھی آپ کا انداز جارحانہ نہیں بلکہ علمی اور دفاعی ہوتا تھا۔ آپ کا ماننا تھا کہ "قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے، مگر اسے زخم دینے کے لیے نہیں، مرہم رکھنے کے لیے اٹھانا چاہیے۔”
جامعہ اشرفیہ کے پرنسپل نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا: "مولانا مبارک حسین صاحب کی رحلت جامعہ اشرفیہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وہ ادارے کا ایک ستون تھے۔ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پر کرنا مشکل ہوگا۔”
نماز جنازہ اور تدفین
مرحوم کے صاحبزادے نے بتایا کہ نماز جنازہ آج بعد نماز جمعہ 2:30 بجے دن جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے وسیع میدان میں ادا کی جائے گی۔ نماز جنازہ کی امامت حضور عزیز ملت کے صاحبزادے فرمائیں گے۔ تدفین مبارک پور کے احاطۂ اشرفیہ قبرستان میں کی جائے گی۔ ملک بھر سے علما، مشائخ، سیاسی و سماجی شخصیات کی آمد متوقع ہے۔ انتظامیہ نے سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔
تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری
حضور قائد ملت، صدر الشریعہ کے جانشین، بریلی شریف، کچھوچھہ شریف، مارہرہ مطہرہ اور ملک کے تمام بڑے خانقاہی مراکز سے تعزیت کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ جامعہ نعیمیہ مرادآباد، الجامعۃ الاشرفیہ، دارالعلوم منظر اسلام بریلی اور دیگر اداروں کے ذمہ داران نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ہزاروں طلبہ و عقیدت مند ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
ایک عہد کا خاتمہ
علامہ مبارک حسین مصباحی کی رحلت صرف ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ علمی و صحافتی اعتبار سے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے جس اخلاص، للہیت اور استقامت کے ساتھ مسلک اہل سنت کی خدمت کی، وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ جامعہ اشرفیہ کا صحن، ماہنامہ اشرفیہ کا دفتر اور درسگاہ کا کمرہ آج اپنے ایک خاموش مگر باوقار مکین سے محروم ہوگیا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان و متعلقین کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ آمین یا رب العالمین۔


تعزیتی پیغام
حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب رحلت فرماگئے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
نہایت افسوس ناک خبر موصول ہوئی کہ جلیل القدر عالمِ دین، ممتاز مصنف و مدیر، دامادِ حضور سربراہِ اعلیٰ ، حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب، ایڈیٹر ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور، کا آج پونے بارہ بجے رات انتقال ہوگیا۔ یہ المناک خبر مجھے عزیزِ گرامی مولانا محمد آزاد رضا جامع التقوی دھنبادسے موصول ہوئی، جسے سن کر دل انتہائی غمگین ہوگیا۔
مرحوم اپنی علمی، دینی، فکری اور صحافتی خدمات کے باعث اہلِ علم و اہلِ سنت کے حلقوں میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، مسلکِ اہلِ سنت کے فروغ، علمی تحقیق، تصنیف و تالیف اور دینی صحافت کی آبیاری میں صرف فرمائی۔ ان کی وفات نہ صرف جامعہ اشرفیہ مبارک پور بلکہ پورے علمی و دینی طبقے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی علمی یادگاریں، دینی خدمات اور حسنِ اخلاق ہمیشہ اہلِ علم کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
میں اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ عزیزِ ملت حضرت علامہ عبدالحفیظ صاحب دامت برکاتہم العالیہ، سرپرستِ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، حضرت نعیمِ ملت زید مجدہٗ، مرحوم کے تمام اہلِ خانہ، بالخصوص ان کی اہلیہ، صاحبزادگان، صاحبزادیوں، متعلقین، تلامذہ، محبین اور ادارۂ اشرفیہ مبارک پور کے جملہ ذمہ داران کی خدمت میں دلی تعزیت، ہمدردی اور اظہارِ غم پیش کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کی تمام دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ نیز تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل، حوصلۂ کامل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَأَسْكِنْهُ فَسِيحَ جِنَانِكَ.
غم کی اس گھڑی میں ہم سب مرحوم کے اہلِ خانہ اور وابستگان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں ان کے لیے مغفرت و بلندیٔ درجات کےلئے دعا گو ہیں۔
شریکِ غم :
فقیر محمد یونس رضا اویسی غفرلہ
قاضیِ شریعت، کانپور
۱۸ذی الحجہ ۱۴۴۷ھ
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے موقر استاذ، ممتاز صحافی، مدیرِ ماہنامہ اشرفیہ اور خلیفۂ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر سن کر انتہائی صدمہ اور رنج ہوا۔
حضرت نے اپنی پوری زندگی علمِ دین، تدریس، صحافت اور مسلکِ اہلِ سنت کی خدمت میں صرف فرمائی۔ آپ کی وفات علمی و دینی دنیا کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ، متعلقین، شاگردوں اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد مظفر حسین
ریسرچ اسکالر، شعبۂ علومِ اسلامی
جامعہ ہمدرد یونیورسٹی، نئی دہلی
موبائل: 9555445611
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
یہ خبر اہلِ علم و دانش کے لیے کسی سانحہ سے کم نہیں۔ حضرت کی علمی خدمات، دینی بصیرت، اور طلبہ پر شفقت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آپ کی جدائی نے دلوں کو سوگوار اور آنکھوں کو اشکبار کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ پسماندگان، تلامذہ اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
تمام احباب سے گزارش ہے کہ مرحوم کے لیے ایصالِ ثواب، دعائے مغفرت اور فاتحہ کا اہتمام فرمائیں۔
عرض گزار: مرید حضور مرشد ملت
محمد مشرف علی حنفی القادری مجددی تیغی خالقی مظفرپور بہار انڈیا
اناللہ وانا الیہ راجعون ۔
اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب کے صدقے میں حضرت کی بے حساب مغفرت فرمائے ،جمعۃ المبارک کی مکمل برکتیں عطا فرمائے اور ہل خانہ و لواحقین کو صبر جمیل وأجرعظیم عطا فرمائے ۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم ۔
اناللہ و انا الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے اور درجات کو بلند فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
نہایت افسوس ناک خبر ہے کہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے معزز استاذ، ممتاز عالمِ دین اور ماہنامہ اشرفیہ کے ایڈیٹر حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب آج رات تقریباً 11:45 بجے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے علمی، دینی اور قلمی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، اور پسماندگان، متعلقین، شاگردوں اور جامعہ اشرفیہ کے ذمہ داران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ
اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے فیوض و برکات کو جاری و ساری رکھے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم 🌹🌹🤲
شریک غم
مرتضیٰ شارق صدیقی برکاتی
الہ آباد
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی ایڈیٹر ماہنامہ اشرفیہ مبارک کا انتقال ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور وارثین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین
شریک غم
انیس الرحمن چشتی
صحافی روزنامہ تاثیر مشرقی چمپارن بہار
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !
ابھی ابھی پیلی بھیت شریف ہند سے ہمارے مہربان اور قدر دان علامہ افتخار احمد قادری برکاتی زید مجدہ نے یہ خبر وحشت اثر دی ہے کہ دنیائے اہل سنت کے ممتاز عالم دین، مصنف محقق اور جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ ہند کے ترجمان ماہ نامہ اشرفیہ کے مدیر اعلیٰ حضرت
علامہ مبارک حسین مصباحی رحمۃ اللہ علیہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
ان کی وفات حسرت آیات سے میری کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے۔
راقم کے ان سے دیرینہ علمی و فکری تعلقات تھے ۔ آپ نے نہایت کثرت سے میرے مضامین و مقالات اور مکتوبات کو اپنی نگرانی میں ماہ نامہ اشرفیہ میں شائع فرمایا تھا ۔
آپ نہایت ہی خلیق اور مہربان تھے۔ آپ باغ وبہار، ہنس مکھ اور ملنسار تھے۔
آپ کی باتیں اور یادیں میرے قلب و روح میں نقش ہو کر رہ گئیں ہیں ۔
یہ سانحہ فاجحہ کب اور کیسے ہوا؟
مجھے ان کے سوانحی کوائف درکار ہیں تاکہ ان کے حوالے سے ایک مفصل تعزیتی شذرہ لکھ کر سہ ماہی مجلہ سوئے طیبہ آن لائن میں شائع کر سکوں۔
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل اور صبر جمیل پر اجر جزیل عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین
والسلام مع الاکرام
گدائے کوئے مدینہ شریف
احقر سید صابر حسین شاہ بخاری قادری غفرلہ
"خلیفۂ مجاز بریلی شریف”
برھان شریف ضلع اٹک پنجاب پاکستان
(19/ذوالحجہ 1447ھ/5/جون 2026ء بروز جمعۃ المبارک بعد نمازِ فجر)
حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی مدیر اعلی ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کے انتقال نے سنی صحافت کو افسردہ کردیا
مؤرخہ ۱۸ ذی الحجہ ۱۴۴۷ھ مطابق 5/ جون 2026ء کو بوقت فجر خبر موصول ہوئی کہ اہلِ سنت کی ایک عظیم علمی و ادبی شخصیت اور میدان صحافت کے بے باک قلم کار حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ و مدیر اعلی ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کا انتقال پر ملال ہوگیا ہے۔
یہ خبر سنتے ہی رنج و غم کا سیلاب بپا ہو گیا اس لیے کہ آج بزم تدریس و صحافت کو افسردہ کرکے ایک علمی چراغ ہمیشہ کے لیے ہم سے رخصت ہو گیا۔
انا لله وانا اليه راجعون۔
حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ تعالی عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ آپ اہل سنت کے متحرک و فعال عالم دین تھے، متانت فکر اور لطافت ذوق سے مزین تھے، اہل سنت کی قابل افتخار مرکزی درس گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے مدرس ہونے کے ساتھ طویل عرصے سے مشہور دینی و علمی رسالہ ماہنامہ اشرفیہ کے مدیر اعلیٰ رہے۔ آپ ایک حساس سنجیدہ قلم کار، جن کے خیالات صالح اور تعمیری ہوا کرتے تھے، اپنی دیگر مصروفیت کے باوجود منصب ادارت کے فرائض بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔ ان کے دور ادارت میں کئی اہم نمبر نکل چکے ہیں ۔ جن کی مختصر فہرست درج ذیل ہے:
پیغمبر اعظم نمبر ۱۹۹۲ء، انوار حافظ ملت نمبر 1992 ، تعلیمی کنونشن نمبر 1996، سلطان الہند غریب نواز نمبر 1998، جشن شارح بخاری نمبر 2000، فقیہ اعظم ہند تمبر 2000، انھوں نے کچھ خصوصی شمارے بھی نکالے جیسے سید العلما اور احسن العلما کی حیات و خدمات پر مشتمل ” سیدین نمبر“جو ۱۳۳۲ صفحات پرمشتمل ہے ۔
آپ کے چند مشہور اداریے جو کتابی شکل میں شائع ہوۓ:
(1) افتراق بین المسلمین کے اسباب(۲) جادۂ حق وصداقت (۳) برصغیر میں افتراق بین مسلمین کا آغاز وارتقا (۴) بگڑتے حال بدلتے چہرے(۵) وحید الدین خاں سے دو باتیں۔
یہ اداریے حذف و اضافے کے بعد یکجا بنام ”بر صغیر میں افتراق بین المسلمین کے اسباب“ کتابی صورت میں شائع ہوئے ، اب تک پانچ ایڈیشن انڈیا سے اور چار ایڈیشن مرکزی مجلس رضا لاہور پاکستان سے شائع ہو کر مفت تقسیم ہوئے۔
ان اداریوں کے ذریعہ انھوں نے قارئین اشرفیہ کے لیے افتراق بین المسلمین کا ایک منصفانہ تاریخی جائزہ پیش کیا۔ اس کی ابتدا اور ارتقا پر روشنی ڈالی ، حق و باطل کے درمیان پورے استدلال کے ساتھ خط امتیاز پیدا کرنے کی اچھی کوشش کی۔ مولانا وحید الدین خان کے پراسرار بظاہر معقول نظریہ کا پردہ فاش کیا،نظریاتی جنگ کے بھیانک نتائج سے قارئین کو آگاہ کیا۔ ۴۸۰ صفحات پر مشتمل یہ وقیع کتاب ”شہرِ خموشاں کے چراغ“ ہے ۔ اس میں قرین پچاس شخصیات کے وصال کے غم زدہ مواقع پر تعزیتی تحریریں ہیں۔ ان میں کچھ مختصر اور کچھ طویل نگارشات ہیں، زبان و بیان میں بھی منفرد انداز ہے۔ آپ کی ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ کا معیار مزید بلند ہوتا رہا، طباعت، ڈیزائنگ اور کمپوزنگ میں بھی نکھار آیا، اسی کے ساتھ مضامین میں بھی تنوع، مذہبی رسالوں میں اس کو اپنے منفرد مقام تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا۔
آپ ایک قابل قلمکار اور ایڈیٹر کی حیثیت سے علمی و مذہبی مضامین کے ذریعے نسلِ نو کی رہنمائی کرتے رہے۔
حضرت کی بے شمار دینی و علمی خدمات ہیں جن ہمیشہ یاد کیا جائے۔
الله رب العزت جل جلالہ حضرت کی بے حساب مغفرت و بخشش فرما کر جنت الفردوس میں اعلی سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان و تلامذہ اور لواحقین کو صبر جمیل و أجر جزیل عطا فرمائے ۔
آمین بجاہ سید المرسلینﷺ۔
شریکِ غم:
محمد نفیس القادری امجدی مدیر اعلی سہ ماہی عرفان رضا مرادآباد۔
پرنسپل جامعہ قادریہ مدینۃ العلوم گلڑیا معافی و خطیب و امام اعلی حضرت جامع مسجد منڈیا گنوں، سہالی، مرادآباد، یوپی۔ انڈیا۔
*چلے تو گئے مگر اپنی یادیں چھوڑ گئے*
*حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب کی رحلت اہلسنت کا ایک عظیم خسارہ ہے۔مولانا سید معین میاں*
*حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی ماہر علم و فن تھے۔الحاج محمد سعید نوری*
*تحریر۔ظفرالدین رضوی ممبئی*
عزیزان گرامی
بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی جدائی صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ ایک عہد، ایک خوشبو اور ایک احساس کی جدائی ہوتی ہے۔وہ بظاہر دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں لیکن اپنی یادوں کے چراغ دلوں میں روشن چھوڑ جاتی ہیں۔
آج جب فخر صحافت صاحب علم و فضل حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب قبلہ (علیہ الرحمہ)استاذ ازہر ہند الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور یوپی انڈیا کی رحلت کا غم دل پر دستک دیتا ہے تو بے اختیار آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ان کی مسکراہٹ،ان کی محبت بھری گفتگو،ان کی شفقت،ان کے اخلاص بھرے انداز اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات ایک ایک کرکے ذہن کے پردے پر ابھر آتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی کہیں قریب ہی موجود ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اس دنیا کے سفر سے آگے جا چکے ہیں۔
وہ چلے تو گئے مگر اپنی یادیں چھوڑ گئے۔ایسی یادیں جو ہر ملاقات کو زندہ رکھیی گیں،ہر بات کو تازہ کرتی رہیں گیں اور ہر لمحہ ان کی کمی کا احساس دلاتی رہیں گی۔زندگی کے ہجوم میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں ہوتا،کیونکہ وہ دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ان کی شخصیت،ان کے اخلاق اور ان کی خدمات وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوتی چلی جاتی ہیں۔
آج حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب کی جدائی کا غم ہے،لیکن اس کے ساتھ یہ تسلی بھی ہے کہ نیک لوگ دنیا سے رخصت ہوکر بھی اپنے کردار،اپنے علم،اپنی محبت اور اپنی یادوں کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ان کے نقوش مٹتے نہیں بلکہ نسلوں تک روشنی بانٹتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کی نیک یادوں سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وہ چلے گئے،مگر ان کی یادیں آج بھی دل کی دھڑکنوں کے ساتھ زندہ ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ حضرت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
سوگوار
ظفرالدین رضوی ممبئی
علم و قلم کا ایک روشن چراغ گل ہوگیا
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
جامعہ اشرفیہ مبارک پور، ضلع اعظم گڑھ کے ممتاز استاذ، ماہنامہ اشرفیہ کے مدیر، تنظیم ابنائے اشرفیہ کے روحِ رواں، حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی صاحب کا رات گیارہ بج کر پینتالیس منٹ پر انتقال فرما جانا علمی، ادبی اور تنظیمی حلقوں کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ آپ کی رحلت کی خبر بجلی بن کر گری اور اہلِ علم و دانش کو سوگوار کر گئی۔
مولانا مرحوم ان خوش نصیب شخصیات میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم و قلم دونوں کی دولت سے نوازا تھا۔ آپ بلاشبہ قلم کے بے تاج بادشاہ تھے۔ آپ کی تحریروں میں فکر کی گہرائی، زبان کی شائستگی، دل کی سوزش اور قلم کی روانی یکجا نظر آتی تھی۔ ماہنامہ اشرفیہ کی ادارت نے آپ کو ایک منفرد شناخت عطا کی اور آپ کی تحریریں اہلِ علم کے لیے رہنمائی کا چراغ بن گئیں۔
خطابت کے میدان میں بھی آپ کا انداز نرالا تھا۔ آپ جب منبر پر جلوہ افروز ہوتے تو الفاظ گویا موتیوں کی صورت بکھرتے، دلوں پر دستک دیتے اور سامعین کے قلوب کو گرما دیتے۔ آپ کی گفتگو میں علم بھی تھا، حکمت بھی اور اخلاص کی خوشبو بھی۔
تنظیم ابنائے اشرفیہ کی خدمات میں آپ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ آپ اس قافلۂ علم و عمل کے ایسے رہنما تھے جو خود چلتے بھی تھے اور دوسروں کو بھی منزل کا راستہ دکھاتے تھے۔ آپ کی زندگی اس چراغ کی مانند تھی جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔
اخلاق و کردار کے اعتبار سے آپ ایک مکمل انسان تھے۔ خوش اخلاقی، خندہ پیشانی، ملنساری اور مہمان نوازی آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ جو ایک بار آپ سے ملتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔ آپ کے چہرے کی مسکراہٹ دلوں کی تھکن دور کر دیتی تھی اور آپ کی محبت بھری گفتگو اپنائیت کا احساس دلاتی تھی۔
راقم کو آج بھی وہ منظر یاد ہے جب ایک سفر کے دوران گاڑی خراب ہو جانے کی وجہ سے جامعہ اشرفیہ مبارک پور رات تقریباً ایک بجے پہنچنا ہوا۔ اس دیر گئے وقت میں بھی حضرت مولانا محمد مبارک حسین مصباحی صاحب منتظر تھے۔ یہ انتظار محض رسمی نہیں تھا بلکہ ان کے خلوص، محبت اور مہمان نوازی کا زندہ ثبوت تھا۔ ایسی صفات کتابوں میں نہیں ملتیں بلکہ بڑے لوگوں کی زندگیوں میں نظر آتی ہیں۔
رات میں مفتی اعظم ہالینڈ، حضرت علامہ شفیق الرحمن مصباحی عزیزی حفظہ اللہ کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا تو ابتدا میں یقین نہ آیا، لیکن جب مختلف گروپس میں مسلسل تعزیتی پیغامات دیکھے تو دل نے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کیا کہ واقعی علم و ادب کا ایک درخشاں ستارہ افقِ حیات سے غروب ہو چکا ہے۔
آج ماہنامہ اشرفیہ اپنے مدیر سے محروم ہے، جامعہ اشرفیہ اپنے مخلص استاذ سے محروم ہے، تنظیم ابنائے اشرفیہ اپنے روحِ رواں سے محروم ہے اور اہلِ علم ایک ایسے قلمکار سے محروم ہو گئے ہیں جس کی تحریریں مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور پسماندگان، متعلقین، شاگردوں اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
ان کی زندگی کا ہر ورق علم کی خوشبو سے معطر تھا، اور ان کی یادیں مدتوں اہلِ علم کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
؎ چلے گئے ہیں مگر روشنی چھوڑ گئے
وہ اپنے علم کے چراغوں کی لڑی چھوڑ گئے۔
✍ محمد عباس مصباحی ازہری
خادم التدریس، دار العلوم اہل سنت فیض النبی
کپتان گنج، بستی، اتر پردیش
حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی مدیر اعلی ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کے انتقال
آج یہ دردناک خبر موصول ہوئی کہ اہلِ سنت کی ایک عظیم شخصیت اور میدان صحافت کے بے باک قلم کار حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ و مدیر اعلی ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کا انتقال پر ملال ہوگیا ہے۔
ان لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيءٍ عنده بأجلٍ مسمى
اللهم أغفر له وأرحمه وعافه وأعف عنه
وأكرم نزله ووسع مدخله ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الابيض
شریک غم مولانا محمد ہارون نعیمی و جملہ اساتذہ و طلبہ
جامعہ انیس العلوم طاہر پور مرادآباد