اعظم گڑھ

جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو

مبارک پور، نمائندہ خصوصی:

الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (ایم ایس او) آف انڈیا کے دو روزہ دورۂ مدارس کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کی آمد ہوئی، جہاں اساتذۂ الجامعۃ الاشرفیہ اور اکابر علماء کے ساتھ مختلف علمی، تعلیمی اور تحقیقی موضوعات پر تفصیلی گفتگو اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملک میں طلبہ و نوجوانوں کی دینی، تعلیمی، فکری، ادبی اور فلاحی رہنمائی کے لیے سرگرم ممتاز طلبہ تنظیم ایم ایس او آف انڈیا کے اس وفد میں کل ہند صدر مولانا محمد عارف القادری واحدی، نائب صدر مولانا ابو اشرف ذیشان، ایم ایس او اتر پردیش کے صدر مولانا ڈاکٹر محمد ارشد رضوی اور میڈیا انچارج و کنوینر آل انڈیا غازی سیمینار مولانا مفتی محمد قمر انجم قادری فیضی شامل تھے۔
اس اعلیٰ سطحی وفد میں ماہنامہ کنزالایمان دہلی کے مدیر، ماہرِ قلم و قرطاس مولانا ظفر الدین برکاتی مصباحی بھی شامل تھے، جنہوں نے دورۂ مدارس کے اغراض و مقاصد اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مولانا برکاتی کی خصوصی کاوشوں کے نتیجے میں الجامعۃ الاشرفیہ میں اس اہم علمی و مشاورتی میٹنگ کا انعقاد ممکن ہو سکا۔ مزید برآں انہوں نے وفد کے قیام کے لیے جامعہ کے مہمان خانہ میں نہایت معقول انتظام و انصرام کیا، جسے وفد کے اراکین نے سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
جامعہ آمد پر اساتذۂ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور حضرت علامہ مفتی ناظم علی مصباحی، حضرت علامہ مفتی نفیس احمد مصباحی، حضرت علامہ مفتی اختر حسین فیضی، حضرت مولانا مفتی توفیق احسن برکاتی مصباحی، حضرت مولانا مفتی محمد ارشاد مصباحی، حضرت مولانا مفتی محمد جنید مصباحی اور حضرت مولانا مفتی محمد امیر الدین برکاتی نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور تنظیم کی دینی، تعلیمی، فکری، ادبی اور فلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے ذمہ داران کو اپنی دعاؤں سے نوازا۔ اساتذۂ کرام نے ایم ایس او آف انڈیا کی مزید ترقی، استحکام اور وسعت کے لیے خصوصی دعائیں بھی فرمائیں۔
امام احمد رضا سنٹرل لائبریری کے مرکزی دروازے پر منعقد ہونے والی اس مشاورتی میٹنگ میں ’’مدرسہ سے یونیورسٹی تک‘‘ روابط کی تحریک، طلبہ کی اعلیٰ و عصری تعلیم کی جانب رہنمائی، علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر ایم ایس او آف انڈیا کے کل ہند صدر مولانا محمد عارف القادری واحدی صاحب نے آنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمارے دورۂ مدارس کا بنیادی مقصد مدارسِ اسلامیہ اور یونیورسٹیوں کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کو فروغ دینا، مدرسہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی مواقع سے روشناس کرانا اور انہیں جدید دور کے تعلیمی، فکری اور پیشہ ورانہ امکانات سے جوڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس او آف انڈیا کا ماننا ہے کہ مدارس کے طلبہ علمی صلاحیتوں، دینی بصیرت اور فکری استعداد کے اعتبار سے کسی بھی طبقے سے کم نہیں ہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں مناسب رہنمائی، صحیح معلومات اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے مزید عرض کیا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر مدارس کے طلبہ کو روایتی دینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید اور عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کرنی چاہیے، تاکہ وہ دین و ملت کی مؤثر ترجمانی کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے حیات میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔ ان کے مطابق دینی اور جدید علوم کا حسین امتزاج ایک مثبت اور تعمیری تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
ایم ایس او آف انڈیا کے نائب صدر مولانا ابو اشرف ذیشان صاحب نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ جدید تعلیم طلبہ کے لیے معاشی استحکام، بہتر روزگار اور اعلیٰ کیریئر کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قانون، صحافت، بین الاقوامی تعلقات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاسیات، تاریخ، ابلاغِ عامہ اور سماجیات جیسے اہم شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھولتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو یونیورسٹیوں میں داخلے کے طریقۂ کار، مختلف سرکاری و غیر سرکاری اسکالرشپس، کمپیٹیٹو ایگزامینیشنز، پروفیشنل کورسز، ریسرچ پروگرامز اور اعلیٰ تعلیم کے دیگر مواقع کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ متعدد مدارس و جامعات میں عصری مضامین کی شمولیت ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جس کے نتیجے میں ایسے علماء، اسکالرز اور ماہرین تیار ہوں گے جو دینی بصیرت کے ساتھ عصری مسائل کا گہرا شعور بھی رکھتے ہوں گے۔
اس موقع پر مولانا ظفر الدین برکاتی مصباحی نے دورۂ مدارس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی انتظامیہ نے ’’مدرسہ سے یونیورسٹی تک‘‘ رابطے کی اس تحریک کی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہزادۂ عزیز ملت مولانا نعیم الدین عزیزی نے توسیعی خطابات کے ایک مستقل سلسلے کے آغاز کا عندیہ دیا ہے، جس کے عملی خاکے کو ایم ایس او آف انڈیا کے ذمہ داران مرتب کریں گے۔
اسی میٹنگ میں آل انڈیا غازی سیمینار کے انعقاد اور اس کی تیاریوں کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ استاذ الجامعۃ الاشرفیہ حضرت علامہ مفتی ناظم علی مصباحی نے نوجوانوں کی اس علمی و تحقیقی کاوش کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ حالات میں ملک کی جن درس گاہوں، خانقاہوں اور دینی مراکز میں تصنیفی، تحقیقی اور اشاعتی کام ہو رہا ہے، وہ نہ صرف قابلِ قدر بلکہ دوسروں کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ خصوصاً ایسے وقت میں جب حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، اس نوعیت کے علمی سیمینار کی اہمیت، افادیت اور ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے ایم ایس او آف انڈیا کی علمی، تعلیمی، ادبی اور فلاحی سرگرمیوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے ان کی بھرپور ستائش فرمائی۔
حضرت علامہ مفتی نفیس احمد مصباحی نے اہلِ قلم اور اصحابِ تحقیق سے اپیل کی کہ وہ اپنے مضامین اور تحقیقی مواد کے ذریعے تعاون کریں، کیونکہ ہر مقام پر حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق مصادر اور کتابیں آسانی سے دستیاب نہیں ہوتیں۔ انہوں نے ایم ایس او آف انڈیا کی جانب سے علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کی کوششوں کو خوش آئند قرار دیا۔
نگران امام احمد رضا سنٹرل لائبریری حضرت علامہ مفتی اختر حسین فیضی نے غازی سیمینار کے مرکزی موضوع اور اس کے ذیلی عناوین کو سراہتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور ہر ممکن عملی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان علماء اور طلبہ میں علمی ذوق پیدا کرنے اور تحقیقی میدان میں انہیں متحرک کرنے کے لیے ایم ایس او آف انڈیا کی سرگرمیاں قابلِ ستائش ہیں۔
میٹنگ میں شریک دیگر اساتذۂ الجامعۃ الاشرفیہ حضرت مولانا مفتی توفیق احسن برکاتی مصباحی، حضرت مولانا مفتی محمد ارشاد مصباحی، حضرت مولانا مفتی محمد جنید مصباحی اور حضرت مولانا مفتی محمد امیر الدین برکاتی نے بھی ایم ایس او آف انڈیا کے دو روزہ دورۂ مدارس، ’’مدرسہ سے یونیورسٹی تک‘‘ روابط کی تحریک اور مختلف علمی، ادبی اور فلاحی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے اسے وقت کی ایک مثبت اور تعمیری پیش رفت قرار دیا۔
بعد ازاں میڈیا انچارج و کنوینر آل انڈیا غازی سیمینار مولانا مفتی محمد قمر انجم قادری فیضی نے اکابر علماء کی خدمت میں سیمینار کے خصوصی دعوت نامے پیش کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر مقالات تحریر کرنے کی درخواست کی، جس پر اصحابِ علم و نظر نے مکمل تعاون اور بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔
بعدہٗ وفد کے اراکین نے مولانا ظفر الدین برکاتی مصباحی کی معیت میں حضور حافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور ایصالِ ثواب کیا۔ اس موقع پر وفد نے الجامعۃ الاشرفیہ کی عظیم الشان عمارتوں اور عزیز المساجد کی دلکش و حسین تعمیرات کا بھی مشاہدہ کیا، جنہیں دیکھ کر وفد کے اراکین نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔
میٹنگ کے اختتام پر علماء و اساتذۂ کرام نے ایم ایس او آف انڈیا کی ترقی، استحکام اور کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں اور امید ظاہر کی کہ یہ تنظیم آئندہ بھی طلبہ و نوجوانوں کی دینی، علمی، فکری، ادبی اور فلاحی رہنمائی میں مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔

اپنے وہاٹس ایپ پر تازہ ترین خبریں پانے کے لیے یہاں کلک کریںْ!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے