گھوسی، نمائندہ خصوصی:
ملک میں طلبہ و نوجوانوں کی دینی، تعلیمی، فکری، ادبی اور فلاحی رہنمائی کے لیے سرگرم ممتاز طلبہ تنظیم مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (ایم ایس او) آف انڈیا کے دو روزہ دورۂ مدارس کے سلسلے میں کُل ہند صدر علامہ مولانا عارف القادری واحدی صاحب قبلہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر جامعہ کے ذمہ داران اور اکابر اساتذۂ کرام سے ملاقات کرتے ہوئے مدارس اور یونیورسٹیوں کے درمیان تعلیمی روابط کے فروغ، طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے ہم آہنگ کرنے اور علمی و فکری میدان میں ان کی رہنمائی کے موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر ناظم اعلیٰ جامعہ امجدیہ رضویہ حضرت مفتی علاء المصطفیٰ قادری صاحب قبلہ، پرنسپل حضرت مفتی جمال مصطفیٰ قادری صاحب قبلہ، شیخ الحدیث حضرت مفتی عبدالرحمن مصباحی صاحب قبلہ، حضرت مفتی خورشید عالم صاحب اور حضرت مفتی حسان المصطفیٰ قادری صاحب قبلہ سمیت دیگر اہلِ علم موجود تھے۔
ایم ایس او آف انڈیا کے کل ہند صدر مولانا عارف القادری واحدی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر مدارس کے طلبہ کو روایتی دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری اور جدید علوم میں بھی مہارت حاصل کرنی چاہیے، تاکہ وہ دین و ملت کی مؤثر ترجمانی کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے حیات میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی اور جدید علوم کا حسین امتزاج ایک مثبت اور تعمیری تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
ایم ایس او آف انڈیا کے نائب صدر مولانا ابو اشرف ذیشان صاحب قبلہ نے کہا کہ جدید تعلیم طلبہ کے لیے معاشی استحکام، بہتر روزگار اور اعلیٰ کیریئر کے امکانات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قانون، صحافت، بین الاقوامی تعلقات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاسیات، تاریخ، ابلاغِ عامہ اور سماجیات جیسے اہم شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھولتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے متعدد مدارس و جامعات کی جانب سے نصاب میں عصری مضامین کی شمولیت خوش آئند پیش رفت ہے، جس کے نتیجے میں ایسے علماء، اسکالرز اور ماہرین تیار ہوں گے جو دینی بصیرت کے ساتھ عصری مسائل کا گہرا شعور رکھتے ہوں گے۔
جامعہ کے اساتذۂ کرام نے ایم ایس او آف انڈیا کی تعلیمی، ادبی نیز فلاحی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور وفد کے اراکین کو اپنی خصوصی دعاؤں سے نوازا۔
بعد ازاں وفد کو ممتاز الفقہاء، امیر المؤمنین فی الحدیث، محدث کبیر، شہزادۂ حضور صدر الشریعہ نائب قاضی القضاۃ فی الہند حضرت علامہ مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی کی قیام گاہ پر حاضری اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ وفد کے ذمہ داران نے حضرت کی خدمت میں دورۂ مدارس کے اغراض و مقاصد اور ایم ایس او آف انڈیا کی تعلیمی، علمی، ادبی اور فلاحی سرگرمیوں کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔
اس موقع پر تنظیم کی جانب سے شائع کردہ سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی کی فارسی تصنیف ’’حقائق ہندی‘‘ کے اردو ترجمے کا نسخہ، جسے علامہ مفتی ناظم علی مصباحی صاحب قبلہ استاذ جامعہ اشرفیہ مبارکپور نے مرتب کیا ہے، علامہ محدث کبیر کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے نہ صرف دورۂ مدارس کے ایجنڈے اور کتاب کے چند صفحات کا بغور مطالعہ فرمایا بلکہ ایم ایس او آف انڈیا کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے تنظیم کی ترقی، استحکام اور فلاح و بہبود کے لیے طویل دعائیں بھی فرمائیں۔ دورانِ گفتگو حضرت نے ازراہِ شفقت دریافت فرمایا: ’’میں کیا خدمت کروں؟‘‘ جس پر وفد کے اراکین نے عرض کیا کہ حضور کی دعائیں ہی ہمارے لیے سب سے بڑا سرمایہ ہیں، جس پر حضرت نے مزید خصوصی دعاؤں سے نوازا۔
بعد ازاں وفد نے حضور صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ، مصنفِ بہارِ شریعت، کے مزار شریف پر حاضری دے کر فاتحہ خوانی کی۔ اُس کے بعد وفد معروف مؤرخِ اسلام محدث جلیل اور شیخ الحدیث جامعہ شمس العلوم گھوسی حضرت علامہ ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی مدظلہ العالی کی خدمت میں ان کے دولت کدہ پر حاضر ہوا، جہاں علمی، ادبی اور فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ حضرت نے وفد کے اراکین کو اپنی متعدد علمی تصانیف بطور تحفہ عنایت فرمائیں اور نہایت محبت و شفقت کے ساتھ ظہرانے سے تواضع فرمائی۔ انہوں نے ایم ایس او آف انڈیا کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے تنظیم کی ترقی و کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں بھی فرمائیں۔ اس موقع پر مولانا مفتی محمد قمرانجم قادری فیضی صاحب ( کنوینر آل انڈیا غازی سیمینار) نے علماء کرام کو خصوصی دعوت نامہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مقالہ لکھنے کی بھی دعوت پیش کی، جس پر اصحاب فکر و نظر نے یقین دہانی کرائی کہ مکمل طور سے تعاون کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ اس وفد میں ایم ایس او آف انڈیا کے نائب صدر مولانا ابو اشرف ذیشان، ایم ایس او اتر پردیش کے صدر مولانا ڈاکٹر ارشد خان رضوی اور میڈیا انچارج مولانا مفتی محمد قمر انجم قادری فیضی بھی شامل تھے۔ بعد ازاں یہ وفد اپنے دورۂ مدارس کے اگلے مرحلے کے تحت الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے لیے روانہ ہوگیا۔


