نئی دہلی: 4 جنوری (اے این آئی): دہلی کی مختلف سرحدوں پر کسان تنظیموں کے ذریعہ حال ہی میں نافذ کیے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان آج مرزکی حکومت کسان قائدین سے نئے سرے مذاکرہ کرے گی۔
کسانوں نے حال ہی میں نافذ ہونے والے تین زرعی قوانین کے خلاف 26 نومبر سے اپنا احتجاج شروع کیا تھا جو آج بھی بدستور جاری ہے۔
متعلقہ مضامین
کاشتکاروں کی تربیت کے لئے زرعی اسکولوں کے قیام پر غور
ہماری آواز/نئی دہلی ، 30 جنوری (پریس ریلیز) حکومت کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے سلسلے میں عملی تربیت فراہم کرنے کے لئے دیہی زرعی اسکولوں کے قیام پر غور کر رہی ہے۔ گذشتہ روز پارلیمنٹ میں پیش کردہ معاشی جائزے میں کہا گیا تھا کہ کاشتکاروں کو پیداوار کرنے والوں سے تاجروں میں تبدیل […]
مودی حکومت فوری طور پر زرعی مخالف قوانین واپس لیں:راہل
ہماری آواز/نئی دہلی ، 27 جنوری (پریس ریلیز) سابق کانگریسی صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لئے بغیر ، انہیں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے ایک مثال کے ساتھ منکسر رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسانوں کے مطالبے پر توجہ دیں اور کسان مخالف زراعت کے تینوں […]
ہنگامی دفعات کے مطابق سندھو، غازی آباد اور ٹکری بارڈر پر انٹرنیٹ خدمات دو دن کے لیے پھر ہوئیں بند
ہماری آواز/نئی دہلی، 30جنوری (پریس ریلیز) کسانوں کے دھرنے کے مقامات پر پھر سے جمع ہونے کے پیش نظر مرکزی وزارت داخلہ نے آج ایک بار پھر ہنگامی دفعات کا استعمال کرتے ہوے دارالحکومت کی سرحدوں سے متصل سندھو بارڈر، غازی پور اور ٹکری بارڈر علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات عارضی طورپر دو دن کے لئے […]
