پٹنہ: 11 فروری/ ہماری آواز(پریس ریلیز) اقلیت اور اقلیتی ادارو ں نے حکومت کی شان بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے میں ہر حکومت نے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔ مسلم سماج اس ملک میں سب سے بڑی اقلیت ہے،اس نے اس میں ہمیشہ بڑھ کر حصہ لیا ہے۔یہی نہیں بلکہ اقلیتوں کی حالت کو دیکھ کر ملکی وریاستی حکومت کے اچھے یا خراب ہونے کا فیصلہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ ہماری ریاست بہار نے اس واسطے سے بڑی نیک نامی کمائی اور حکومت بہار کی ہمیشہ تعریف وتوصیف ہوئی ، لیکن کچھ برسوں سے اقلیت بالخصوص مسلم اقلیتی اداروں کی وجہ سے حکومت بہار کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات لگنے لگے ہیں، اس لئے ریاستی حکومت کو چاہئے کہ مسلم اقلیتی اداروں کی جانب توجہ دیں اور اپنی شان واپس لائے۔ مذکورہ بالا خیالات کا اظہار بہار اسٹیٹ مومن کانفرنس کے صدر مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے پریس ریلیز میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالت میں بہار میں مسلم اقلیتی اداروں کی حالت بہت خراب ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی توجہ ان اداروں کی جانب نہیں ہے، ان میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ (۱) مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ، یہ بہار کا بڑا تعلیمی ادارہ ہے ، یہ پورے طور پر حکومت بہار کے کنٹرول میں ہے۔ اس میں پرنسپل اساتذہ کے سمیت ۲۱؍ عہدے منظور ہیں۔ موجودہ وقت میںجونیئر اورسینئر سیکشن دونوں ملاکر پرنسپل سمیت کل چار اساتذہ کام کررہے ہیں، باقی عہدے وفات یا سبکدوشی کی وجہ سے خالی ہیں، جبکہ اس میں درجہ تحتانیہ اول سے فاضل تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ ملازمین میں سے بھی چند ملازمین کام کررہے ہیں۔(۲) ادارہ تحقیقات عربی وفارسی، یہ بھی پٹنہ شہر میں ہے اور مشہور ادارہ ہے۔ اس کے تمام پروفیسر سبکدوش ہوچکے ہیں۔ موجودہ وقت میں صرف ایک ڈائریکٹر ہیں جو ادارہ چلا رہے ہیں، بقیہ عہدے برسوں سے خالی ہیں۔ (۳) بہار اردو اکادمی کی کمیٹی کئی برسوں سے تشکیل نہیں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اس میں نہ کمیٹی ہے اور نہ مستقل سکریٹری ،یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ اپنی افادیت کھورہا ہے۔ (۴) گورنمنٹ اردو لائبریری بھی گورنمنٹ کا ادارہ ہے، اس میں بھی کمیٹی کی تشکیل نہیں ہوسکی، جس کی وجہ سے یہ لائبریری بھی ترقی سے محروم ہے۔ اب تو اس میں مستقل لائبریرین بھی نہیں ہے۔ دوسرے بہت سے عہدے بھی خالی ہیں۔(۵) اردو مشاورتی کمیٹی میں دو سال سے صدر نہیں ہے اور نہ کمیٹی کی تشکیل کی گئی ہے، جس کی وجہ سے اردو مشاورتی کمیٹی کا کام بھی بند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو زبان گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔ عزت مآب وزیراعلیٰ نے اس زبان کے ساتھ ہمیشہ نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ موجودہ وقت میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ اردو زبان کو ہائی اسکول کے نصاب میں لازمی اور مادری گروپ سے خارج کرکے اختیاری مضمون میں شامل کردیا گیاہے، جس کی وجہ سے ہائی اسکول میں اردو اساتذہ کی بحالی کے راستے بند ہوتے نظر آرہے ہیں، جبکہ انہوں نے ہمیشہ یہ اعلان کیا کہ ہر اسکول میں اردو اساتذہ کی تقرری ہوگی۔ نیز محکمۂ تعلیم کے ایک دوسرے نوٹیفکیشن کے ذریعہ جن اسکولوں کے پاس عمارت نہیں ہے ان کو دوسرے عمارت والے اسکول میں ضم کیا جارہا ہے،جس کی زد میں اردو کے بھی بہت سے اسکول آئے ہیں۔اس کی وجہ سے اردو اسکولوں کا نقصان ہوگا۔ جس علاقہ میں وہ اسکول قائم تھے، وہاں کے بچے بچیاں تعلیم سے محروم ہوجائیں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسے اسکولوں کے لئے عمارت کا انتظام کرے تاکہ اردو اسکول ختم ہونے سے بچ سکے۔مولاناقاسمی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ حکومت بہار ملک کے دیگر صوبوں کی حکومت کے مقابلے میںاچھی سمجھی جاتی ہے، مگر مسلم اقلیتی اداروں کی حالت کو دیکھ کر لوگوں کے درمیان مثبت پیغام نہیں جاتا ہے،اس لئے حکومت بہار خاص طور پر عزت مآب وزیراعلیٰ حکومت بہار سے اپیل ہے کہ اقلیتی اداروں بالخصوص مسلم اقلیتی اداروں پر خصوصی توجہ دی جائے اور ان کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں
متعلقہ مضامین
سرکاری ضابطوں کی پابندی کے ساتھ تعلیمی سلسلہ مدارس میں شروع کیا جائے: وفاق المدارس الاسلامیہ
اہم فیصلوں کے ساتھ وفاق المدارس الاسلامیہ کی مجلس عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر پٹنہ۹؍مارچ (پریس ریلیز) حالات آتے جاتے رہتے ہیں،حالات سے نہ تو ناامید ہونا چاہیے اور نہ ہی خائف رہنا چاہیے،عزم وحوصلہ اور مضبوط قوت ارادی کے ساتھ مدارس کے کام کو آگے بڑھا نا چاہئے، ان خیالات کا اظہاروفاق المدارس الاسلامیہ […]
بچیوں کو عالمہ بنانا وقت کی اہم ضرورت: سید اکرم نوری
مدرسہ جامع العلوم سنگھیا ساگر میں درس نظامی کی تعلیم کا ہوا افتتاح بچیوں کے لیے دینی و عصری تعلیم کا مکمل نظم موتیہاری سرکار مدینہ کا فرمان عالی شان ہے کہ مسلم مرد و عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے- ہر دور میں علم کی اہمیت رہی ہے بغیر علم کے کوئی بھی […]
مجدد الف ثانی نے دین الہٰی و فتنئہ اکبری کا سد باب کیا۔ صوفی شمیم الدین نقشبندی
مجدد الف ثانی نے دین الہٰی و فتنئہ اکبری کا سد باب کیا۔ صوفی شمیم الدین نقشبندی

