بانگر/مؤ: 7مارچ، ہماری آواز(یاسرقاسمی) آج میں دور حاضرہ کے بیحد سلگتے ہوئے مسئلہ پر اپنا درد آپ سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جہیز جیسی کرہناک لعنت سے ہم میں سے بیشتر لوگ دو چار ہیں۔ جہیز سماج کا ناسور بن چکا ہے جس کی جڑیں گہری اور گہری ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ لعنت کسی فرد واحد یا کسی فرقہ و مذہب کی نہیں بلکہ کوئی بھی اس سے اچھوتا نہیں رہ گیا ہے۔ ابھی حال ہی میں صوبہ گجرات کی رہنے والی ایک بیٹی عائشہ کی اسی جہیز نامی لعنت کی ذد میں آنے سے دردناک موت کی خبر نے سبھی کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا اور کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سے قبل بھی نہ جانے کتنی عاٸشہ اسی لعنت کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ یہ باتیں بانگر مؤ کے قاضی شہر سید ضیاء العارفین نے اپنے ایک تحریری بیان میں کیا انہوں نے کہا آج ہم سبھی کو بلا تفریق مذہب و ملّت سوچنا پڑے گا اور اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ اپنی بہن و بیٹیوں کی حفاظت کی ٹھوس تدابیر کرنی پڑیں گی۔ صرف زبانی جمع خرچ اور بیان بازی سے اس کو ختم کر پانا قطعاً ناممکن ہے۔ علاوہ ازیں شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول خرچی کی کوئی انتہا باقی نہیں رہ گئی ہے۔ ہمارے مذہب اسلام میں انتہائی سادگی کے ساتھ شادی بیاہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے نکاح میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے اعراض کیا ترک کیا چھوڑا وہ ہم میں سے نہیں۔ اس حدیث میں حضور اکرمؐ نے نکاح جیسی عظیم سنت کا حکم دیا ہے۔ لیکن آج ہمارے کام اس کے بالکل برخلاف ہیں۔ آج جہیز کا مطالبہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے جہیز میں مروّجہ چیزوں کے علاوہ کثیر مقدار میں زیور-نقدی اور ٹووھیلر و فور وھیلر تک کی ڈمانڈ کی جا رہی ہے۔ ذرا سوچئے کی آج ہم اپنے لڑکے کی شادی میں لڑکی والوں سے جہیز کی مانگ کر رہے ہیں۔ کل ہماری بیٹی کی شادی میں لڑکے والے بھی ہم سے جہیز کی مانگ کریں گے تو ہم پر کیا گزرے گی۔ میں ان فضول خرچی کرنے والے نام نہاد رئیسوں سے کہتا ہوں ذرا شرم کرو اور ان غریبوں کا کچھ خیال کرو۔میری اللہ کے واسطے درخواست ہے کہ ان اسراف بیجا اور فضول خرچی سے باز آجاؤ۔ اور اللہ اس کے حبیب پاکؐ کے فرمان کے مطابق شادی بیاہ جیسی تقریبات کو انجام دیں۔ حضور نبی کریم نے اُس نکاح کو بہتر اور اَحسن فرمایا ہے جس میں خرچ بہت ہی کم ہو۔ میری علماءکرام اور ائمہ مساجد سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ وہ اپنی تحریر و تقریر نیز جمعہ میں خطبہ سے قبل اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں۔ شادی بیاہ میں جہیز اور فضول خرچی کی بابت لوگوں کو بیدار کرنے اور ان میں شعور پیدا کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔ سنت کے موافق ہی شادی-بیاہ کریں۔ میری خصوصاً نوجوانوں سے پرزور اپیل ہیکہ اس سلسلہ میں وہ آگے آئیں جہیز نہ لینے اور فضول خرچی کو روکنے کا تہیہ کریں۔ اپنے والدین اور سرپرستوں سے ادب اور منّت و سماجت کے ساتھ جہیز نہ لینے اور کم سے کم خرچ میں نکاح کی ادائیگی کےلئے ان سے التجا کریں۔ میری سبھی حضرات و خواتین سے انتہائی درد مندانہ اپیل ہے کہ شادی-بیاہ میں غیر اسلامی رسومات-جہیز و فضول خرچی کو روکنے کے لئے اپنے طور سے جیسے بھی ہو سے کوشش کریں۔ اس کام کو ایک مشن کے طور سے آگے بڑھائیں۔ آپس میں مشورے کریں۔ اور اس نکاح جیسی عظیم سنت کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق ہی انجام دیں۔ اس طرح معاشرہ کو ایک صحیح سمت دیکر دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کے حقدار بنیں۔ میری بارگاہ رب العزت میں التجا ہے کہ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ سبھی غیر اسلامی و غیر سماجی کاموں سے باز رکھے اور ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔
متعلقہ مضامین
378 واں سالانہ عرس طیبی واحدی کی تیاریاں شباب پر
پریس ریلیز/ ضلع ہردوئی بلگرام شریف میں حضرت مجدد وقت سید میر عبدالواحد بلگرامی اور ان کے صاحبزادہ قطب زماں حضرت سید میر محمد طیب علیہما الرحمہ سے منسوب خانقاہ واحدیہ طیبیہ میں رواں ماہ 26 اکتوبر تا 28 اکتوبر ہونے والے عرس طیبی واحدی کی تقریبات کی تیاریاں شباب پر ہیں،خانقاہ کے صاحب سجادہ […]
جہیز ایک لعنت ہے اس کو ختم کرنا سب کی ذمہ داری: عبدالمعید چوھدری
بلگرام/ہردوئی: 3 مارچ، ہماری آواز(یاسرقاسمی)بحیثیت قوم مسلم ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم اپنی نسلوں کی تربیت اور اپنا معاشرتی نظام اسلام کے ان پاکیزہ اصولوں کے مطابق بنائیں جسمیں عورتوں بچوں کمزوروں یتیموں بیواؤں کے احترام اور با عزت زندگی گذارنے لئے اصول و ضابطے موجود ہیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار جمعیت علماء اتر […]
عرس محمد رضا شاہ کا اختتام، ملک میں قیام امن کے لیے ہوئی دعا
ہردوئی: 29 مارچ، ہماری آواز(نامہ نگار)سید محمد رضا شاہ سندیلوی اور مختار حسین شاہ کا سالانہ عرس قصبے کی مشہور مخدوم صاحب کی درگاہ اور خانقاہ رضائیہ میں منایا گیا، اس موقع پر خانقاہ رضا ئیہ کے سجادہ نشین نور الحسن شاہ صابری نے کہا امن وسکون ہمیشہ بزرگوں کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے […]

