حکومت بہار اس مسئلے کو نہایت سنجیدگی سے لے: توقیر رضا
موتی ہاری: 29 مارچ
مشہور و معروف سماجی کارکن ، راشٹریہ جنتا دل کے فعال لیڈر اور چکیا نگر پریشد کے وائس چیئرمین عہدہ کے اُمیدوار سبھاش یادو نے کہاہےکہ اُردو ٹی ای ٹی امیدواروں پر لاٹھی چارج لا قانونیت کا مظہر ہے۔ وہ کئی سالوں سے اپنے حقوق کی باز یابی اور کٹ آف مارکس میں کمی کر کے رزلٹ جاری کرنے کی مانگ کر رہے ہیں اور یہ مانگ بالکل جائز بھی ہے۔ جب سرکار جنرل کوٹے کا رزلٹ اسی طرز پر جاری کر چکی ہے تو حکومت اُن کے مطالبہ پر جلد کاروائی کرے کیونکہ وہ بے روزگار ہیں اور کچھ دنوں میں اُنکی عمر بھی ختم ہو رہی ہے۔ حکومت کا طریقہ پردیش کے نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کر نے کے مترادف ہے۔ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے اور اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پولس کو بے لگام چھوڑ دیا ہے تاکہ نوجوان اپنے جمہوری اختیارات کا استعمال نہ کر سکیں ۔ اُن کے مطالبہ پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غووخوض ہونا چاہیئے۔ مسٹر یادو نے مزید کہا کہ وزیر اعلی نتیش کمار اُردو آبادی کی ترویج و ترقی کو حاشیہ پر لے کے جانا چاہتے ہیں۔اُن کی حکومت میں غریب اور اقلیت اپنے حق اور حقوق سے محروم ہیں۔ سپریم کورٹ کے وکیل نے بھی اُردو امیدواروں کے حق میں اپنی رائے پیش کیا ہے – اسلئے جلد از جلد رزلٹ جاری کیا جائے- امیدواروں پر پولس کی ظالمانہ, سفاکانہ کاروائی سے بہت غمزدہ ہوں اور اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں ۔ موصوف نے کہا کہ اُردو داں طلبہ کے لیے نوکری کے دروازے محدود ہوتے ہیں اور اگر ان دروازوں کو بھی بند کردیا گیا تو اُردُوداں طبقہ کے لیے بہت بڑا نقصان ہوگا اور مستقبل میں اِس زبان کی ترویج و ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوگی اور اُردو عوام مین اسٹریم سے الگ ہو جائے گی۔تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت حکومت کی اوّلین ذمّہ داری ہے اسلئے حکومت اس پر غور کرے اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ بند کرے۔
جبکہ اتحاد ملت ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا توقیر رضا الہ آبادی نے کہا کہ عزت مآب وزیراعلیٰ بہار جناب نتیش کمار جی کے دور اقتدار میں اردو کے لیے بہت کام ہوا ہے لیکن اب بھی بہت کام باقی ہے – اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کے مسائل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور محکمہ جاتی دشواریوں کو دور کرکے ان کا رزلٹ جاری کرائیں اور ان کی بحالی کی جائے کیونکہ اب بھی اسکولوں میں اردو اساتذہ کی سخت کمی ہے –



