بات سے بات: فتح اللہ گولن ، ہیرو یا ویلن
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج ترک مفکر وداعی فتح اللہ گولن کی وفات کی خبر پر ہماری اس بزم علم وکتاب میں منفی و مثبت ، تائید ومخالفت دوںوں انداز کے تبصرے موصول ہوئے ہیں، ان تبصروں پر ہمیں کچھ کہنا نہیں ہے، کیونکہ ہمارے ممبران اہل علم ہیں وہ خود کسی نتیجہ پہنچنے کی صلاحیت ہم سے بہتر رکھتے ہیں۔ باوجود اس کے اس تعلق سے اپنے بھی چند تاثرات بیان کرنے میں حرج نہیں۔
۔ کسی تحریک کے مثبت یا منفی پہلؤوں پررائے قائم کرنے سے پہلے ان تحریکوں کے آغاز اور ان کے وابستگان پر گذرنے والے حالات کا غیر جذباتی اور سنجیدہ انداز سے تجزیہ ہونا ضروری ہے۔
برصغیر میں ایک بڑی اور موثر تحریک گذری ہے جو مہدوی تحریک کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے، اس کے بانی محمد جونپوری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بڑے مخلص اور پابند شریعت انسان تھے۔ اور مغلیہ دور سلطنت میں پنپنے والی بدعات اور خرافات اور ظلم وزبردستی کے خلاف یہ ایک اصلاحی تحریک تھی، لیکن اس کے ماننے والوں پر اتنا ظلم وتشدد ہوا کہ اس تحریک کی شبیہ ہی بدل گئی، اور آہستہ آہستہ یہ تحریک گمراہی کے دلدل میں پھنستی چلی گئی، اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہوں نے مغلوں اور مسلمان سلطنتوں کے مقابلے میں انگریزوں کا ساتھ دیا، اور اس کے بدلے میں انہیں جائدادیں اورجاگیریں ملیں، کوئمبتور کے قریب پالگھاٹ میں ان کی ایک آبادی اورمسجد دیکھنے کو ملی، سننے میں آیا کہ ٹیپو سلطان کے خلاف ان کے آباء واجداد نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، اور یہ آبادی اس زمانے میں ان کی چھاونی تھی۔
۔ ہمیں یہ بات فتح اللہ گولن کی وفات پر یاد آئی، دراصل ہم برصغیر کے مسلمان جذباتی اور شخصیت پرست واقع ہوئے ہیں، ہم بڑے لوگوں کو ان کی لغزشوں سمیت قبول کرتے ہیں، ہم ان کی غلطیوں کو بھی اچھائی سمجھتے ہیں، اور ان کے دفاع میں اپنی جملہ توانائیاں صرف کرنے کو نیکی، لہذا انصاف کا دامن ہمارے ہاتھوں سے بار بار چھوٹ جاتا ہے۔ سلطنت عثمانیہ، اردوگان اور گولن پر ہمارے پڑھے لکھوں کے تبصروں سے ان دانشوران اور اہل علم کا یہی رویہ سامنے آتا ہے۔
۔ سلطنت عثمانیہ ہویا گولن اور اردوگان ان پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ ترکی قوم بنیادی طور پر قوم پرست واقع ہوئی ہے، یہی صورت حال سلطنت عثمانیہ کے دور میں خاص کر آخری دور میں بھی تھی، طورانی تحریک اسی دور میں شروع ہوئی تھی، اس وقت عراق، شام، اور لبنان کی حیثیت باجگذار قوموں جیسی تھی، ان ممالک کی اس دور میں دفتری زبان عربی کے بجائے ترکی تھی، پریس پر سخت سنسرشپ عائد تھی، اور جمال پاشا جیسے عثمانی گورنر مخالفین کے خلاف سولیاں گاڑے ہوئے تھے، عرب قوم پرستی کی تحریک کچھ یوں ہی کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ ممکن ہے ترکوں کے سلسلے میں اطلاعات میں کچھ مبالغہ آرائی ہوئی ہو، لیکن آواز تالی کے بجے بغیر نہیں آتی ہے۔
۔ اردوگان کا معاملہ کچھ ایسا ہی ہے، وہ قوم پرست ترک ہیں، انہوں نے کردی شناخت ختم کرکے اس علاقے کو غیرفوجی بفر زون علاقہ بنانے کی غرض سے شام کے سنیوں کو حکومت کے خلاف ابھارا، اور خود کو بشار الاسد حکومت کا شدید دشمن ثابت کرنے کے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، ہمیں اچھی طرح یاد ہے اس وقت فلسطینی صحافی عبد الباری عطوان نے لکھا تھا کہ آپ اردوگان کی بشار سے سخت دشمنی کے اظہار پر نہ جائیں، اردوگان حکومت کا سیاسی مفاد ہوگا تو چند دنوں میں بشارسے گلے ملتے ہوئے اسے آپ دیکھیں تو تعجب نہ کریں۔ اور حالات نے عطوان کی ایک عشرے پہلے کہی ہوئی بات کو درست ثابت کردیا۔
۔ آج فتح اللہ گولن سے ہماری ناراضگی کی بنیادی وجہ اردوگان سے ان کے اختلافات ہیں۔ہم اردوگان کو ہیرو سمجھتے ہیں لہذا اس کے میڈیا کی تمام باتوں کو درست سمجھ کر گولن کے خلاف نتھنے پھلا ئے رہتے ہیں، ہمارا یہ انداز فکر درست نہیں ہے، ہمیں کوئی رائے قائم کرتے ہوئے مسئلہ کے تمام پہلؤوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا﴾
یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ اور کمال مصطفی اتاترک کے ترکیہ پر مکمل قبضے کے بعد یہ ناممکن تھا کہ کوئی دینی فکر کا شخص سیاسی میدان میں داخل ہو، اور وہ اسلامی نظام حکومت کی طرف دعوت دے، اس وقت بدیع الزمان نورسی نے سیاست سے خود کو دور رکھا، اور اس سے نفرت اور تصوف سے محبت کو اپنی دعوت کا شعار بنایا،اس پالیسی سے نورسی کو اپنی دعوت پھیلانے میں بڑی مدد ملی، ، نورسی کوئی بہت بڑے عالم و فقیہ نہیں تھے، برصغیر کے قدیم بزرگان دین کی طرح احادیث و آثار پر ان کی دسترس کمزور تھی، لیکن ان کے فکر وتدبر کی صلاحیت خدا داد تھی، ہمارے برصغیر میں مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم کو اگر تصوف کا تڑکا لگتا تو شاید فکر وتدبر میں نورسی ان کی مثال ہوتے۔
نورسی کے بعد اس تحریک سے تین دھارے نکلے، ایک مختصر ساحلقہ جو خود کو نورسی کا سو فیصد جانشین سمجھتا ہے، دوسرا فتح اللہ گولن کا حلقہ جس نے نورسی کی تعلیمات اور ان کے لٹریچر کو سب سے زیادہ پھیلایا،فوج ، پولیس اور سول سروس کے حلقوں میں بڑے گہرائی تک چلے گئے، میڈیا پر اس فکر کو عام کیا، ملکوں ملکوں میں اپنے مدرسے اور تعلیم گاہیں قائم کیں ، جس طرح برطانوی دور میں جہاد سے اظہار براءت پر قادیانیوں کا مقابلہ کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی، اسی طرح سیاست سے دوری اور روحانیت کے دعوے نے ان کی دعوت کے لئے دنیا بھر میں راہیں بڑی آسان کردیں، اور تیسرا حلقہ رفاہ تحریک کا تھا، جسے نجم الدین اربکان نے قائم کیا تھا، اور جس کے بطن سے اردوگان جیسے قائدین نکلے تھے۔ انہوں نے نورسی سے عقیدت کے ساتھ ساتھ اسلامی تحریکات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلامی نظام سیاست کی فکر کو بھی اپنا لیا تھا۔
۔ فتح اللہ گولن ترکیہ میں لادین فوج کے غلبہ کے شدید مخالف تھے، اربکان اور اردوگان بھی اسی فکر کے حامل تھے، لہذا جب اردوگان کی جماعت مضبوط ہونے لگی، تو اس وقت فتح اللہ گولن نے فوج کی کمر توڑنے کے لئے اردوگان کا ہاتھ بٹایا، اور یہ تقریبا ناممکن تھا کہ گولن کے تعاون کے بغیر اردوگان بر سرحکومت آتے، لیکن بعد میں اردوگان کے داماد اور اس کے ساتھیوں کی مالی بے ضابطگیوں اور اس سلسلے میں ارووگان کے دہرے معیار کی وجہ سے ان میں دوریاں پیدا ہوئیں جسے گولن سے وابستہ میڈیا نے چھپانے کی کوشش نہیں کی، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کے بعد اردوگان نے فتح اللہ گولن کی تحریک کو کچلنے لئے بڑاظالمانہ اور غیر منصفانہ برتاو اپنایا، پاکستان جیسے زیر اثر ملکوں میں گولن کے اداروں اور مدرسوں کو بند کروایا، اس طرح دنیا بھر میں لاکھوں طلبہ دینی تعلیم سے محروم ہوگئے۔
ممکن ہے گولن کے افکار وخیالات سوفیصد درست نہ ہوں، چونکہ دنیا بھر میں جس میں برصغیر بھی شامل ہے، ان میں مزارات اور بدعتی تصوف ترکیہ ہی سے درآمد ہواہے، لہذا ہمارے یہاں وقتا فوقتا مزارات کے سجادہ نشینوں اور مجاوروں سےجو خیالات اور امن ودوستی کے پیغامات میڈیا پر آتے رہتے ہیں اور ان کی سیاست سے دوری کا جو پروپیگنڈہ ہوتے رہتا ہے، گولن کے افکار وخیالات بھی اس کی عکاسی کرتے ہوں، اور مہدوی تحریک پر ظلم وتشدد کے نتیجے میں یہ تحریک جس طرح بے راہ روی پر مائل ہوئی یہاں بھی رد عمل میں یاپھر ضرورتا کچھ ویسا ہی ہوا ہو۔ایسی کسی بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اردوگان کے میڈیا سیل نے گولن کے بارے میں جو پروپیگنڈا کیا ہے انہیں صد فیصد درست نہیں مانا جاسکتا۔ فلسطین کے مسئلہ پر اردوگان نے ہمیشہ آنکھ مچولی کھیلی ہے، اس کی سیاست کو ہم جس طرح غلط نہیں کہ سکتے، اور اسے بد نیت نہیں قرار دے سکتے، اسی طرح بہت ممکن ہے، گولن کی رائے بھی دانشمندی یا ضرورت کی عکاس ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گولن کو اردوگان کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کریں، ان کی تحریک میں سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے، کاش گزشتہ صدی میں عالم اسلام میں اٹھنے والی تحریکات پر معروضی انداز میں غیر جانبدارانہ سنجیدہ اور تحقیقی کام کی شروعات کی جائیں، اس موضوع کے ساتھ ابھی تک ہمارے یہاں انصاف نہیں ہوا ہے۔