ابراہیمی ہاؤس کی ممانعت
سعودی فتوٰی ہاؤس نے محمد بن سلمان کی درخواست کے برعکس مذاہب کے اتحاد کے بارے میں واضح موقف اختیار کیا اور اس کی دعوت دینے والوں کو کفر کا مرتکب قرار دیا۔
سعودی عرب کی مستقل فتوٰی کمیٹی نے “مذاہب کے اتحاد” اور “ابراہیمی ہاؤس” کے متعلق پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے درج ذیل فتوٰی جاری کیا:
مستقل فتوٰی کمیٹی کا فتویٰ – فتوٰی نمبر 19402
“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو اُن پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ان کے اہلِ بیت و صحابہ اور جو ان کے طریقے پر چلتے رہے قیامت تک۔ بعد ازاں…”
مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے ان سوالات اور میڈیا میں شائع مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب کے اتحاد (اسلام، یہودیت، اور عیسائیت) کے بارے میں پیش کیے گئے، جن میں یہ تجویز دی گئی کہ ایک ہی جگہ مسجد، چرچ، اور مندر بنائے جائیں یا قرآن، تورات، اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کیا جائے۔ اس مسئلے پر غور کے بعد کمیٹی نے درج ذیل فیصلہ کیا:
پہلا نکتہ:
اسلامی عقیدے کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین حق نہیں ہے، اور یہ آخری دین ہے جو تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کر چکا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
“بیشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔”
دوسرا نکتہ:
قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس نے تورات، زبور، انجیل اور دیگر کتب کو منسوخ کر دیا ہے۔
تیسرا نکتہ:
تورات اور انجیل کے منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں تحریف بھی کی گئی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیات میں ذکر ہے۔
چوتھا نکتہ:
حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
پانچواں نکتہ:
جو کوئی اسلام قبول نہ کرے، خواہ وہ یہودی، عیسائی یا کوئی اور ہو، وہ کافر ہے اور اللہ کا دشمن ہے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو وہ جہنم کا مستحق ہے۔
چھٹا نکتہ:
مذاہب کے اتحاد کی دعوت ایک فتنہ انگیز اور مکارانہ سازش ہے جس کا مقصد اسلام کو کمزور کرنا اور مسلمانوں کو مرتد کرنا ہے۔
ساتواں نکتہ:
اس دعوت کا ایک اثر یہ ہو گا کہ اسلام اور کفر کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا اور مسلمانوں کا کفار کے ساتھ بیزاری کا رویہ ختم ہو جائے گا، جس سے جہاد اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی جدوجہد بھی ختم ہو جائے گی۔
آٹھواں نکتہ:
اگر کوئی مسلمان اس دعوت کو فروغ دے تو وہ دینِ اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ دعوت اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔
نواں نکتہ:
• مسلمان کے لیے اس دعوت کی حمایت کرنا، اس کے سیمینارز میں شرکت کرنا یا اس کے خیالات کو پھیلانا جائز نہیں۔
• قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا مسجد، چرچ اور مندر کو ایک جگہ بنانا ناجائز ہے، کیونکہ یہ اسلام کی برتری کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔
مستقل فتوٰی کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء Fatwa no:19402
“اللہ اس فیصلے کو کمیٹی کے لیے اجر کا ذریعہ بنائے، آمین! اللہ سب سے بڑا ہے۔”
اس پیغام کو آگے بڑھائیں اور آپ کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے گا جو اس گمراہ کن نظریے کے سب سے پہلے انکار اور رد کرنے والے ہیں، اور بطور داعی، معلم، طالب علم اور اجر کے متلاشی اس پیغام کا حصہ بنیں۔