یہ خبر تمام عالم اسلام پر خصوصا وابستگان سلسلہ عالیہ اشرفیہ نطامیہ چشتیہ پر بجلی بن کر گری کہ گل وگلزار اشرفیت،مہر چرخ سیاست وقیادت،شیخ القائدین،سند المفکرین،سلطان الخطبا،نیر بر شرافت،پیر طریقت شہزادہ مجاہد دوراں حضرت علامہ سید شاہ ظفرمسعود اشرفی جیلانی،کچھوچھوی قدس سرہ اپنے پیچھے ہزارں عقیدت مندوں اور خاجہ طاشان اشرفیت کو روتا بلکتا چھوڑ کرراہی ملک بقا ہوگئے،انا للہ وانا الیہ راجعون
عربی زبان کامشہور مقولہ ہے الولد سر لابیہ،بیٹا اپنے باپ کا راز یعنی اس کامظہراتم ہوتا ہے،آپ کے والد گرامی حضرت علامہ شہنشاہ خطابت،امام الادبا،سرتاج مسند اشرفیت،پیر طریقت مظہر شجاعت وبسالت،حضرت علامہ سید شاہ مظفرحسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی قدس سرہ سابق ممبر پارلیامنٹ آف انڈیا، اپنے وقت کے انقلابی خطیب ومناظر تھے،وہ بر صغیر کی سیاست پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے،کانگر یس پارٹی سیاپنے بار بار طبع آزمائی کی،اور کامیاب رہے،کانگریس کے صف اولی کے زعما میں آپ کاشمار ہوتا تھا، اندرا گاندھی سے براہ راست مراسم تھے،زبردست شان وشوکت کے آدمی تھے،شاہانہ طمطراق،خاندانی جاہ وجلال دیکھ کر بڑے بڑے کا پتہ پانی ہوجاتاتھا،اور علامہ مظفر حسین اشرفی علیہ ا لرحمہ کے والد گرامی سلطان المشائخ حضرت سید اشرف حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کے نور نظر تھے جوقبلہ مخدوم الاولیا،ہم شبیہ غوث اعظم اعلیٰ حضرت سید علی حسین اشرفی میاں کے برادر اکبر تھے،اور انھوں نے ہی اعلی ٰ حضرت اشرفی میاں کیروحانی تربیت فرمائی تھی اور اجازت وخلافت سے نوازا بھی تھا۔اس طرح حضرت ظفر مسعود صاحب کا خاندنی ونسبی پایہ بڑا بلند نظر آتا ہے۔مختصر علالت کے بعد آپ اس دار فانی سے کوچ کرگئے جس سے وبستگان سلسلہ عالیہ اشرفیہ میں خصوصا اور تم،ام اہل سنت میں عمومارنج وغم کاماحول قائم ہوگیا ہے۔
جب سے فقیر اشرفی نے یہ خبر سنی ہے،بے خودی سی طاری ہے،پچھلے دوسالوں میں غم پر غم کا جاں سوز سلسلہ جاری ہے،درجنوں نہیں سیکڑوں لعل وگہر اس کائنات سے رخصت ہوگئے،جس سے ساراچمن اجڑ ااجڑا سا محسوس ہوتا ہے۔ابھی دو دن قبل ہی ان کے ایک چہیتے خلیفہ سے نصف گھنٹہ تک گفتگو ہوئی،میں ان سے کہاکہ حضرت مسعود ظفر صاحب سے رابطہ رکھا کریں حضرت بڑے خورد نواز ہیں،کیا خبر تھی کہ رابطہ سے قبل ہی ان کارابطہ ان کے مولی عز وجل سے ہوجائے گا۔
حضرت کو پورت ملک میں خصوصا حضرت مجادہ دوراں کے حلقہ اثر میں تقریری ودعوتی دورہ ہوتا رہتا تھا،سیکڑوں دلوں میں عقہد اہل سنت وجماعت کاچراغ جلایا،بظاہر سیاست سے وابستہ رہے مگر دینی سرگرمیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ہر مقام اور ہر گام پر دینی قاقدار کرفروغ بخشتے رہے۔ان کانرم اخلاق،نرم روی،میانہ روی،اورفکری اعتدال اپنی مثال آپ تھا۔ہر کسی سے مسکراکر ملتے،کبھی کوئی بات ناگوار گزری توظر انداز کردیتے،اصاغر نوازی ان کی غھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔
حضرت کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے،سال گزشتہ کرونا میں مبتلا تھے،گھر پر قید تنہائی کاٹ رہے تھے،ہم بھی مزیارت کے لیے حاضر ہوئے وور ہی سے دیکھا،دل کو ایک چوٹ لگی،کہ شیر کی د ہاڑنے والے باپ کا شیر دل بیٹا آج اس طرح تنہائی کی سزا کاٹ رہاہے،مگر پھر چہرے پر مسکراہٹ تھی،خوش دلی سے ہمار ااستقبال کیااور دعائیں دیں۔
ان کو دیکھ مجاہد دوراں کی یاد تازہ ہوجاتی تھی،اب وہ صورت بھی مٹی میں دب گئی،ہائے اب غم کے مارے کہاں جائیں گے،اور کس کی تسلی ان کے ذخموں پر مرہم رکھے گی۔
اب ہمیشہ کے لیے وہ ہم سے ر خصت ہوگئے،ان کی یادیں اور ان کی باتیں ہامرے دلوں میں زند ہ رہیں گی۔
خدواند قدوس اپنے اس جلیل القدر بندے اپنی رحمت وغفران کے دریا میں غرق فرمائے،آمین
نوٹ:نماز جنازہ غالبا کل یعنی مورخہ ۶۲ فروری بروز ہفتہ صبح دس بجے کچوچھوشریف میں ادا کی جائے گی۔
فقط
عاصی پر معاصی فقیر اشرفی
مولانامقبول احمد سالک مصباحی
بانی ومہتمم:جامعہ کواجہ قطب الد ین بختیا رکاکی،مدن پور کھاد رایکس ٹینشن،سریتا وہار،نئی دہلی
قومی ترجمان:آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ،جوہری فارم،جا معہ نگر،اوکھلا،نئی دہلی
جاری کردہ: حافظ کفایت اللہ قادری
استاذ: جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی
،210۔بی،بلاک،گلی نمبر۔8،مدنپور کھادرایکس ٹینشن،نیر سموسہ چوک، سریتا وہار،نئی دہلی۔110076
contact:
Jmaia Khwaja Qutbuddin Bkhtiyar Kaki,
210-b,block,street no-8,Mdanpur Khadar extension,Srita Vihar,New Delhi-110076
Mob.85859627
Email:salikmisbahi.92@gmail.com