۲۲ جمادی الثانی کو افضل البشر بعد الانبیاء یار غار مصطفے خلیفۂ اوّل حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا عرس منایا جاتا ہے قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں آپ کی بہت ساری فضیلتیں وارد ہیں چنانچہ حضرت امام فخر الدین رازی رحمت اللہ علیہ نے مفاتیح الغیب میں فرمایا ہے کہ سورۂ والیل ابوبکر کی سورة ہے اور سورۂ والضحی محمد ﷺ کی سورة ہے پھر اللہ تعالی نے ان سورتوں کے درمیان فاصلہ نہ رکھا تاکہ معلوم ہو کہ محمد ﷺ اور ابوبکر کے درمیان کوئی شئ فاصل نہیں تو اگر تم پہلے والیل کا ذکر کرو تو وہ ابو بکر ہیں پھر چڑھو یعنی اس سے آگے بڑھو تو اس کے بعد دن کو پاؤ گے تو وہ محمد ﷺ ہیں،اور اگر تم پہلے والضحی کا ذکر کرو اور وہ محمد ﷺ ہیں پھر اترو تو اس کے بعد والیل کو پاؤگے اور وہ ابوبکر ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز واسطہ یعنی کوئی اوٹ اور آڑ نہیں ہے (مفاتیح الغیب، التفسیر الکبیر ، ماخوذ من فقہی مرکز) اس کے علاوہ قرآن مقدس کی دوسری آیات میں بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلتیں پائی جاتی ہیں مثلاً آیت کریمہ ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُم بے شک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت و فضیلت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی و پرہیزگار ہے، علاوہ ازیں احادیث مبارکہ سے شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ملاحظہ فرماتے چلیں حدثنا مقدام ثنا عمي سعيد بن عيسي نا سفيان بن عيينة عن جعفر بن محمد عن ابيه عن جابر بن عبدالله قال قال رسول الله ﷺ ابو بكر و عمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والآخرين ولا تخبر هما يا علي ، ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما اگلے پچھلے تمام بوڑھوں کے سردار ہیں، اور اے علی ! یہ بات ان کو نہ بتانا۔ (معجم الاوسط حدیث نمبر ۸۸۰۸) خلاصۂ کلام یہ کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی اللہ تبارک و تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی بارگاہوں میں مقبول و محترم ہے اس کے ما سوا آپ راز دار مصطفے اور مزاج شناس رسول ہیں جس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا اور اس کی جو شرائط رکھی گئی جس سے بظاہر مسلمانوں کی شکست معلوم ہو رہی تھی یہاں تک کہ صحابۂ کرام کے مابین اضطراب ہوگیا حضرت عمر بن خطاب جن کے رگ و ریشے میں دینی حمیت سرایت کئے ہوئی تھی نبئ کائنات کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں! آپ نے جوابا ارشاد فرمایا اے عمر یقیناً میں سچا نبی ہوں، انہوں نے کہا کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا یقیناً ایسا ہی ہے، انہوں نے کہا کیا ہمارے شہدا جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہونگے! آپ نے فرمایا ایسا ہی ہے، حضرت عمر نے عرض کیا تو پھر کیوں اتنا دب کر ہم معاہدہ کر رہے ہیں ! آپ ﷺ نے جواب دیا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا اور وہ مجھے ضائع نہیں فرمائے گا وہ میرا پروردگار ہے انہوں نے پھر کہا آپ نے ہمیں یہ نہیں کہا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے ! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں یقیناً کہا تھا لیکن یہ تو نہیں کہا تھا اسی سال کریں گے، حضرت عمر کو پھر بھی قرار نہ آیا اور وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جو رسول اللہ ﷺسے سوال و جواب کے وقت وہاں موجود نہ تھے ان سے وہی سوالات اسی ترتیب سے کئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لفظ بہ لفظ وہی جوابات دئے جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے تھے۔ (سبل الھدی الرشاد ج ۵ ص ۶۲( ماخوذ من مقالۂ مفتی منیب الرحمن صاحب) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سوچ تاجدار نبوت ﷺ کی فکر کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی، انہی خلیفۂ اوّل افضل البشر بعد الانبیاء حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا عرس مبارک ۲۲ جمادی الثانی کو منایا جاتا ہے چنانچہ ہر جگہ کی طرح تحریک اصلاح معاشرہ اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے دن میں یوم جمہوریہ کا پروگرام انعقاد پذیر ہوا جس میں سب سے پہلے قومی پرچم کو فہرا کر قومی ترانہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا پڑھا گیا بعد ازیں جمہوریت کے موضوع سے تقریر ہوئی اور حاضرین کو یہ بتایا گیا کہ ہمارے پیارے ملک بھارت کا قانون ۲۶ جنوری ۱۹۵۰ کو نافذ کیا گیا جس کے تحت پورا ملک آن بان شان کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور پھر رات میں یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نسبت سے نہایت ہی شاندار محفل منعقد کی گئی جس میں مولانا صدام حسین فیضی, مفتی محمد حسین خان رضوی, مولانا محمد حسن فیضی, مولانا محمد حسین قادری مولانا غلام محمد صدیقی فیضی, حافظ محمد تنویر صدیقی رضوی, حافظ محمد افسر رضوی, حافظ عبد الرشید, حافظ ارشد علی, حافظ محمد نسیم, حافظ محمد زاہد, حافظ ظہیر علی, حافظ محمد احمد اور ان کے علاوہ کئی لوگوں نے شرکت فرمائی۔
متعلقہ مضامین
دارالعلوم امام احمد رضا بندیشرپور میں سالانہ امتحان اختتام پزیر، تقسیم انعامات کی تقریب میں بچیوں نے انگریزی زبان میں کی گفتگو
سدھارتھ نگرضلع کے مرکزی درس گاہ دارالعلوم امام احمد رضا بندیشرپور میں بچوں کا سالانہ امتحان تحریری و تقریری اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اس موقع پر دارالعلوم کی دیرینہ روایت کے مطابق اعلان نتائج اور تقسیم انعامات کی تقریب کا اہتمام پرجوش انداز میں ہوا جہاں بچے-بچیوں کو ان کی کارکردگی پر انعام و […]
قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
مورخہ 14دسمبر2021بروز منگل ملک کی مشھور خانقاہ وعظیم درسگاہ دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول براؤں شریف میں بانی خانقاہ وادارہ عارف باللہ شیخ المشائخ شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ کے مرشد اجازت قطب الاقطاب سلطان التارکین سید شاہ عبد اللطیف ستھنوی کا عرس سراپا قدس انتہائی تزک واحتشام کے ساتھ منایا گیا ساتھ ہی ساتھ بانی خانقاہ […]
خواجہ غریب نواز کی زندگی ہمارے لیے بہترین عملی نمونہ: علامہ صاحب علی چترویدی
دارالعلوم امام احمد رضا بندیشرپور میں جشن خواجہ غریب نواز اختتام پذیر سدھارتھ نگر: 9 فروری، نامہ نگارضلع کا مرکزی ادارہ دارالعلوم امام احمد رضا بندیشرپور اسکا بازار، سدھارتھ نگر یو۔پی۔ کی فضائیں آج جشن خواجہ غریب نواز کی سرمدی فیضان و برکات سے معطر رہیں۔ بعد نماز ظہر قرآن خوانی اور بعد نماز عشاء […]

