تازہ ترین
• تحریک فروغ اسلام کے زیر اہتمام دہلی کوچ کا اعلان • تریپورہ کے حالات کو لے کر آل کرناٹکا سنی علماء بورڈ (رجسٹرڈ) بنگلور کی جانب سے اقدام • منقبت امام اہل سنت اعلیٰ حضرت • جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو • ایم ایس او آف انڈیا کے وفد کی خانقاہِ کاملیہ ولیدپور میں حاضری • عرسِ شہنشاہ ناسک کی نسبت سے نوری مشن کا فری میڈیکل کیمپ • مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل • جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں ایم ایس او وفد کی علمی و فکری نشست، ممتاز الفقہاء مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں • جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں ایم ایس او وفد کی اساتذۂ کرام سے ملاقات، مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے جوڑنے پر زور • مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کے فروغ کیلئے ایم ایس او آف انڈیا کا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کا دورہ

اسلامی شرعیت سے متصادم اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ کا مسودہ ہوگیا تیار

📅 02-07-2023 👁 4 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
اتراکھنڈ

<p>دہرادون:
اس مسودے میں تعدد ازدواج، حلالہ اور عدت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اور مسلمانوں کے پرسنل لاء کے تحت طلاق نہ دینے، طلاق کا حق زوجین میں سے ہر ایک کو ملنے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی سفارشات پیش کی گئی ہیں، ان سب کو دیکھ کر حکومت کا ٹارگیٹ واضح ہے کہ ”یکساں سول کوڈ“ صرف اور صرف مسلمانوں کی مذہبی تشخص اور پرسنل لاء کو ختم کرنے کے لیے لایا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے بالمقابل اس سے دوسرے مذاھب کو زیادہ نقصان پہنچنے والا نہیں ہے۔ کیونکہ دیگر مذاھب کے پرسنل لاء میں مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور وہ ان تبدیلیوں کے ساتھ رفتہ رفتہ وہ لوگ ڈھل جاتے ہیں، اس لئے ”یکساں سول کوڈ“ سے آنے والے مسائل اور دقتوں اور پریشانیوں سے صرف مسلمانوں ہی کو گزرنا پڑیگا، اور اگر یکساں سول کوڈ ملک میں نافذ ہوجاتا ہے تو کیا اس مستقبل میں اسلام اور اسلامی شعائر کے تحفظ کی بھی کوئی ضمانت لی جاسکتی ہے؟
لہذا ضروری ہے کہ اس وقت مذہبی رہنما اور پرسنل لاء اتراکھنڈ کے مسودے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں اسکو روکنے کے تئیں ٹھوس اقدامات کرے۔ صرف ای میل اور واٹسپ کے ذریعے حکومت کے اس خطرناک منصوبے کو روکا نہیں جاسکتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مسلمان روڈ پر اتر آئے اور تین طلاق والے معاملے کی طرح اس پر بھی ہاہاکار مچائیں، اس سے تو بہر حال کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہونے والا بلکہ نقصان ہی اٹھانا ہوگا۔ لیکن اتنا تو کیا ہی جاسکتا ہے کہ مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے ذمہ داران باہم مل کر اسکے خلاف ”سائلنٹ کمپین“ چلائیں جو گودی میڈیا کی نظروں سے بھی اوجھل رہے اور کام بھی بآسانی ہوجائے۔
لیکن اگر یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی پرسنل لاء اور دیگر مذہبی تنظیمیں اسی رفتار بےڈھنگی پر چلتی رہیں تو جو کچھ اتراکھنڈ کے مسلمانوں پر ہونے جارہا ہے، کچھ ہی عرصے کے بعد وہ پورے ملک کے مسلمانوں کے ساتھ ہوگا۔ پھر اس وقت کی گہار اور ہزار کوششیں بےسود اور بیکار ہوں گی۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

🎖️ Senior Editor ★★★★★
H

HamariAawaz

📍 Barabanki

📰 1896 پوسٹ👁 3820 قارئین📊 2 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

ای۔وی۔ایم۔ معاملہ: کانگریس لیڈروں کودھچکا، سبھی درخواستیں خارج

مقبول ترین پوسٹس

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

👁 12 ویوز

دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی

👁 9 ویوز

بھگوا لو ٹریپ کا تازہ واقعہ: اپنی مسلم گرل فرینڈ کو مار کر پندرہ فٹ نیچے زمین میں گاڑ دیا

👁 8 ویوز

نم ناک آنکھوں سے حاجی نسیم رضا قادری ضیائی سپرد خاک، حضور محدث کبیر نے پڑھائی نماز جنازہ

👁 8 ویوز

مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل

👁 8 ویوز