تازہ ترین
• تحریک فروغ اسلام کے زیر اہتمام دہلی کوچ کا اعلان • تریپورہ کے حالات کو لے کر آل کرناٹکا سنی علماء بورڈ (رجسٹرڈ) بنگلور کی جانب سے اقدام • منقبت امام اہل سنت اعلیٰ حضرت • جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو • ایم ایس او آف انڈیا کے وفد کی خانقاہِ کاملیہ ولیدپور میں حاضری • عرسِ شہنشاہ ناسک کی نسبت سے نوری مشن کا فری میڈیکل کیمپ • مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل • جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں ایم ایس او وفد کی علمی و فکری نشست، ممتاز الفقہاء مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں • جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں ایم ایس او وفد کی اساتذۂ کرام سے ملاقات، مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے جوڑنے پر زور • مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کے فروغ کیلئے ایم ایس او آف انڈیا کا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کا دورہ

ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی کتاب ’’خواتین ادب تاریخ و تنقید‘‘ کا رسم اجرا

📅 28-02-2022 👁 4 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
پریاگ راج

<p>پریاگ راج، ۲۸ فروری ۲۰۲۲ (ہندوستان اردو ٹائمز) ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی تازہ تصنیف ’’خواتین ادب :تاریخ و تنقید ‘‘ کی بتاریخ 27 فروری 2022 بروز اتوار دوپہر دو بجے رسم اجرأ پریاگ راج کے تاریخی مقام اے۔جی آفس کے پولیہ پارلیمنٹ پرہوئی ۔اس مقام کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندستان کے آئین کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ اے۔جی آفس کے کارکنوں نے بھی۲۶جولائی ۱۹۵۰ کو پولیہ پارلیمنٹ کی شروعات کی گئی تھی۔ جس میں باقاعدہ وزیر اعظم اور مرکزی وزیر کا انتخاب کیا جاتا تھا، اس تاریخی مقام پر وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ ساتھ کئی تاریخی شخصیات مثلا اندرا گاندھی اور اس زمانے کے ماہرین سیاست بھی پالیمنٹ میں شرکت کیا کرتے تھے۔اس کا ذکر سلیم شیروانی سمیت کئی راج نیتاؤں نے سنسد میں اس ہندستان قدیم رواج کا ذکر کیا ہے ۔اے جی آفس کے اسی تاریخی مقام پر الٰہ آباد یونیورسٹی کے مشہور و معروف استاد ،محقق و ناقد پروفیسر سنتوش بھدوریہ صاحب ،پریاگ راج میں اردر افسانوں سے فکشن کی جوت جلانے والے معروف افسانہ نگار اسرار گاندھی صاحب ،ہندی کے معروف ڈرامہ نگار،ہدایتکار پروین شیکھر صاحب ،ڈاکٹر صالحہ صدیقی ،ڈاکٹر دھیرندر دھول ،معروف انگریزی ،ہندی صحافی ڈاکٹر ریاض خان اور رسرچ اسکالر الٰہ آباد یونیورسٹی ریحان احمدکے دست مبارک سے عمل میں آئی ۔اس کتاب کے منظر عام پر آنے کی تمام اہل علم و نظر نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔</p>
<p>پروفیسر سنتوش بھدوریہ صاحب نے کہا’’میں اس اہم کتاب کے لئے ڈاکٹر صالحہ صدیقی صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،یقینا اردو ادب میں خواتین کی خدمات کا مطالعہ کرنے کے لئے یہ کتاب نہ صرف قارئین بلکہ طلباء کے لئے بھی انتہائی معنی خیز کتاب ثابت ہوگی ۔اسی طرح اسرار گاندھی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،اس کتاب کو دیکھ کر ہی ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی محنت و کاوش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔اس اہم کام کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا ،اردو ادب میں خواتین ادب پر مبنی یہ کتاب یقینا دستاویز ی اہمیت رکھتی ہے ۔خواتین ادب : تاریخ و تنقید‘‘بلا شبہہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے، جس میں بہترین موضوعات کو قلمبند کیا گیا ہے۔میں صالحہ صدیقی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،اور امید کرتا ہوں کہ وہ اسی طرح ادب کی خدمت کے لیے گامزن رہیں گی۔اس کتاب کے سلسلے میں ڈاکٹر ریاض خان نے کہا،ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی کتاب ’’خواتین ادب : تاریخ و تنقید‘‘ یقینا ایک اہم تصنیف ہے ۔جس میں خواتین کی نثری ،غیر نثری اور شعری جہات کا احاطہ کیا گیا ہے۔اس تصنیف میں بہت ہی سلیقے سے خواتین ادب کی تاریخ و تنقید کو پیش کیا گیا ہے ۔مجھے امید ہے کہ یہ کتاب بھی اردو حلقے میں مقبول ہوگی۔میری نیک تمنائیں اور روشن مستقبل کے لیے دعائیں ۔اس موقع پر پروین شیکھر صاحب نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اس کتاب کو دیکھ کر ہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ یقینا بار بار پڑھی،سنی ،گنی جانے والی بے حد ضروری کتاب ہے ،میں اس اہم کارنامے کے لئے ڈاکٹر صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔</p>
<p>بتاتے چلیں کہ ڈاکٹر صالحہ صدیقی کا شمار اردو کے سنجیدہ نوجوان قلمکاروں میں ہوتا ہے ،اس سے قبل بھی ان کی مختلف موضوعات پر کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں شامل ہیں:اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہتیں (2013)پاکستانی ایڈیشن ،کتابی دنیا ،لاہور(2021)،علامہ اقبال کی زندگی پر مبنی ڈراما ’’ علامہ ‘‘ پہلا ایڈیشن (2015)دوسرا ایڈیشن (2016)،علامہ اقبال کی زندگی پر مبنی ڈراما ’’علامہ ‘‘،ضیائے اردو ’’ضیاء ؔ فتح آبادی ‘‘ایڈیشن اوّل(2016)ایڈیشن دوم (2021)،سورج ڈوب گیا کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ’’ضیاء فتح آبادی کا افسانوی مجموعہ ‘‘ (2017)،سورج ڈوب گیا( ہندی ترجمہ )۔(2017)،ڈراما ’’علامہ ‘‘ (ہندی ترجمہ )،(2017)،نیاز نامہ ’’نیاز جیراج پوری : حیات و جہات ،(2017)، کرونا و کانگو وائرس(بچوں کی کہانیوں کا مجموعہ) (2020)۔</p>
<p>ان کی تازہ تصنیف ’’خواتین ادب تاریخ و تنقید ‘‘قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے ’’ضیائے حق فاؤنڈیشن پبلشنگ ہاؤس پریاگراج سے شائع ہوئی ہے ۔جو دس ابواب پر مشتمل ہیں۔ا س کتاب میں نثری،غیر نثری،شعری ،تنقیدی ،تحقیقی اور دیگر اصناف میں اردو ادب کی خواتین قلمکاروں پر ،مبنی ڈاکٹر صالحہ صدیقی کے اکتالیس مضامین شامل ہیں ۔جن میں سے بیشتر مضامین ہندستان و بیرون ممالک کے مختلف رسائل و جرائد کے زینت بن چکے ہیں ۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

🎖️ Senior Editor ★★★★★
H

HamariAawaz

📍 Barabanki

📰 1896 پوسٹ👁 3707 قارئین📊 2 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

مدرسہ غوثیہ زینت العلوم میں تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا یوم جمہوریہ کا جشن

مدرسہ غوثیہ زینت العلوم دہیاواں بازار پریاگ راج میں میں کی گئی شجر کاری

الحاج محمد سعید نوری کی ایماء پر الہ آباد میں ضرورت مندوں کے درمیان گرم کپڑا تقسیم کیا گیا

مقبول ترین پوسٹس

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

👁 12 ویوز

دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی

👁 9 ویوز

بھگوا لو ٹریپ کا تازہ واقعہ: اپنی مسلم گرل فرینڈ کو مار کر پندرہ فٹ نیچے زمین میں گاڑ دیا

👁 8 ویوز

مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل

👁 8 ویوز

لاک ڈاؤن کے سبب ہر شعبہ متاثر، پولیس انتظامیہ کی سختی سے پھیری والے بے حال

👁 7 ویوز