تازہ ترین
• تحریک فروغ اسلام کے زیر اہتمام دہلی کوچ کا اعلان • تریپورہ کے حالات کو لے کر آل کرناٹکا سنی علماء بورڈ (رجسٹرڈ) بنگلور کی جانب سے اقدام • منقبت امام اہل سنت اعلیٰ حضرت • جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو • ایم ایس او آف انڈیا کے وفد کی خانقاہِ کاملیہ ولیدپور میں حاضری • عرسِ شہنشاہ ناسک کی نسبت سے نوری مشن کا فری میڈیکل کیمپ • مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل • جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں ایم ایس او وفد کی علمی و فکری نشست، ممتاز الفقہاء مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں • جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں ایم ایس او وفد کی اساتذۂ کرام سے ملاقات، مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے جوڑنے پر زور • مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کے فروغ کیلئے ایم ایس او آف انڈیا کا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کا دورہ

صحافت کے لیے قلم کا بےباک ہونا اور تعصبات سے پاک ہونا ضروری ہے: جاوید اختر بھارتی

📅 28-02-2021 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
مئو

<p>محمدآ باد گہنہ/مئو: 27 فروری (پریس ریلز) صحافت بھی بہت اچھا کام ہے بشرطیکہ بیباک ہو تعصبات و تنگ نظری سے پاک ہو جس طرح قلم و روشنائی میں بڑا گہرا تعلق ہے اسی طرح تقریر و تحریر میں، خطابت و صحافت میں بھی بڑا گہرا تعلق ہے اور اس تعلق کو پاک اور بیباک رکھنا ہر مضمون نگار اور قلمکار کی ذمہ داری ہے اور تاکہ ایسا ماحول ہمیشہ قائم رہے کہ زبان حق بولے اور قلم حق لکھے زبان کو صحیح طور پر استعمال کرنا صاحب زبان کی ذمہ داری تو قلم صحیح طور پر چلانا صاحب قلم کی ذمہ داری ہے تاکہ صحافت کا معیار بلند رہے
مذکورہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مشہور مضمون نگار اور یوپی بنکر یونین کے سابق سکریٹری جاوید اختر بھارتی نے کہا کہ پہلے تو بہت کم لوگ تھے مضمون نگاری کے میدان میں اب تو بہت زیادہ لوگ ہیں جن کے مضامیں اخبارات کے صفحات کی زینت بنتے ہیں اور آج اس میدان میں سیاسی ، سماجی شخصیات کے علاوہ علمائے کرام کی بھی بڑی تعداد ہے جو کہ انتہائی خوشی کی بات ہے انہوں نے کہا کہ وہی مضمون نگاری کامیاب ہے جو ہر خاص و عام پڑھ کر سمجھ سکے اس سے قارئین کے اندر مطالعہ کرنے کی خواہش میں اضافہ ہوگا اور قارئین کے اندر مضامین کو پڑھنے کی خواہش بڑھے گی تو اس سے اخباروں کا سرکلر بھی بڑھے گا اور اردو زبان کو بھی فروغ ملے گا
جاوید بھارتی نے مضمون نگاری کے موضوع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی وسیاسی مضامین کے ساتھ ہی عوامی مسائل پر توجہ دیتے ہوئے اس پر بھی قلم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل پر حکومت کی جانب سے کاروائی ہو سکے اور عوامی مسائل کا تصفیہ ہو سکے مرکزی حکومت نے بجٹ پیش کیا تو اس پر مختلف انداز میں مضامین لکھے گئے لیکن میں نے اپنے مضمون میں حکومت کے ذریعے بنکروں کو نظر انداز کرنے کا ذکر کیا تو اس کا اثر یہ ہوا کہ اترپردیش کی حکومت نے بجٹ پیش کرتے وقت بنکروں کا ذکر کیا گویا میری محنت وصول ہو گئی جس کے لئے میں سبھی اردو اخبارات کے ذمہ داران کا شکر گزار ہوں اور کچھ مضمون نگار ایسے بھی ہیں جو دوسرے مضمون نگاروں سے بغض رکھتے ہیں اور ان کی سوچ ہے کہ ہماری برابری میں کوئی نہ آسکے تو ایسی مضمون نگاری سے کوئی فائدہ نہیں ہے اس موقع پر ان کے ساتھ ضیاء الاسلام انصاری بھی موجود تھے.</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

🎖️ Senior Editor ★★★★★
H

HamariAawaz

📍 Barabanki

📰 1896 پوسٹ👁 737 قارئین📊 0.4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

عبادت گاہ تحفظ قانون کو عملی جامہ پہنایا جائے

گھوسی میں جوش و خروش سے نکالا گیا جلوس غوثیہ

جامعہ امجدیہ کے تعلق سے صحیح رپورٹ

مقبول ترین پوسٹس

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

👁 8 ویوز

دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی

👁 6 ویوز

بھگوا لو ٹریپ کا تازہ واقعہ: اپنی مسلم گرل فرینڈ کو مار کر پندرہ فٹ نیچے زمین میں گاڑ دیا

👁 5 ویوز

لاک ڈاؤن کے سبب ہر شعبہ متاثر، پولیس انتظامیہ کی سختی سے پھیری والے بے حال

👁 4 ویوز

نم ناک آنکھوں سے حاجی نسیم رضا قادری ضیائی سپرد خاک، حضور محدث کبیر نے پڑھائی نماز جنازہ

👁 4 ویوز